.

ترکی کی البیش المرکہ کو سرحد سے گزرنے کی اجازت

امریکی سی 130 طیاروں سے کوبانی میں کردوں کو اسلحے کی ترسیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے عراق کے خودمختار علاقے کردستان کی حکومت کے تحت کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کے جنگجوؤں کو شام کے سرحدی شہر کوبانی (عین العرب) میں پہنچنے کے لیے اپنے سرحدی علاقے سے گذر کر جانے کی اجازت دے دی ہے۔

ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو نے سوموار کو دارالحکومت انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''ہم البیش المرکہ کی فورسز کی سرحد پار کرکے کوبانی میں جانے کے لیے معاونت کررہے ہیں''۔

البیش المرکہ کے جنگجو بھی کوبانی میں جنگ آزما شامی کردوں کے ساتھ مل کر دولت اسلامی (داعش) کے مقابلے میں لڑائی میں حصہ لیں گے۔درایں اثناء امریکی فوج نے کوبانی میں کرد جنگجوؤں کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے فوجی طیاروں کے ذریعے اسلحہ ،گولہ بارود اور طبی سامان گرایا ہے۔

امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائیہ کے تین سی 130 طیاروں کے ذریعے ستائیس بنڈل فوجی سازوسامان گرایا گیا ہے،اس کا مقصد داعش کی مزاحمت کرنے والے کرد جنگجوؤں کے دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔امریکی طیاروں نے اسلحے اور گولہ وبارود پر مشتمل ستائیس بنڈل کوبانی میں پھینکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر بنڈل اپنے اپنے اہداف تک پہنچ گئے ہیں۔

امریکی جنگی طیاروں نے داعش کے جنگجوؤں اور اس کے ٹھکانوں پر حالیہ دنوں میں ایک سو پینتیس فضائی حملے بھی کیے ہیں جن کے نتیجے میں اس جنگجو گروپ کی پیش قدمی رُک چکی ہے اور انہی فضائی حملوں کی بدولت کوبانی کا دفاع کرنے والے کرد جنگجوؤں نے داعش کو شہر پر قبضے سے روک رکھا ہے۔

کرد فورسز کے ایک ترجمان نے ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی تحریر میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری مقدار شہر میں پہنچ گئی ہے۔امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ کرد جنگجوؤں کو صرف ہلکے ہتھیار مہیا کیے گئے ہیں۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی شامی اور عراقی کردوں کو مسلح کرنے کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے اور اس کا یہ موقف رہا ہے کہ کرد جنگجو اس کے لیے مسائل کھڑے کر سکتے ہیں کیونکہ پہلے کرد جنگجوؤں نے تین عشرے تک ترکی کے جنوبی علاقے میں مسلح بغاوت بپا کیے رکھی ہے اور ان کی ترک سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور تشدد کے واقعات میں چالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے ترکی کی تشویش دور کرنے کے لیے ہفتے کی شب اپنے ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ٹیلی فون پربات چیت کی تھی،انھیں امریکی فضائیہ کے سی 130 طیاروں کے ترکی کی فضائی حدود سے گذر کر کوبانی جانے کے بارے میں مطلع کیا تھا اور دونوں لیڈروں نے داعش کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

ایک امریکی عہدے دار کے بہ قول صدر اوباما نے انھیں بتایا تھا کہ اس وقت ہمیں داعش کے مشترکہ خطرے کا سامنا ہے ،اس لیے ہمیں پہلے اس سے نمٹنا ہوگا۔اس امریکی کے بہ قول تین سی 130 طیارے سامان گرانے کے بعد بہ حفاظت شام کی فضائی حدود سے نکل گئے ہیں اور واپس اپنے اڈے پر پہنچ گئے ہیں۔