کینیڈین پارلیمان کے اندر، باہرفائرنگ، فوجی ہلاک
پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا،چار افراد زخمی
کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں ایک حملہ آور نے پارلیمان (دارالعوام) کے نزدیک واقع ایک جنگی یادگار پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔حملہ آور نے اس کے بعد پارلیمان کی عمارت کے اندر گھس کر فائرنگ کردی جس سے چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے اس حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔
سی بی سی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق ایک مسلح شخص نے پارلیمان کے نزدیک واقع جنگی یادگار پر مامور ایک فوجی کو گولی مار کر شدید زخمی کردیا جو بعد میں اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا ہے۔اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے فائرنگ کے بعد مسلح شخص کو پارلیمان کی عمارت کی جانب جاتے ہوئے دیکھا تھا اور بکتر بند گاڑیوں میں پولیس کی بھاری نفری بھی پارلیمان کے سامنے پہنچ گئی اور اس نے پارلیمان کی عمارت اور وزیراعظم اسٹیفن ہارپر کے دفتر کا محاصرہ کر لیا۔
حملہ آور کے پارلیمان میں داخل ہونے کے بعد پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں پہنچ گئی تھی اور اس نے حملہ آور اور اس کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش شروع کردی۔حملہ آوروں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک سے زیادہ مسلح افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
تاہم دارالعوام میں موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگی یادگار پر فوجی کو ہلاک کرنے والا حملہ آور ہی عمارت میں گھس آیا تھا اور اس نے وہاں مختلف اطراف میں اندھا دھند فائرنگ کی ہے۔اوٹاوا پولیس نے ایک بیان میں اس حملہ آور کی پارلیمان کی عمارت کے اندر ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اوٹاوا اسپتال میں گولیاں لگنے سے زخمی ہونے والے تین افراد کو منتقل کیا گیا ہے۔
حملے کے وقت کینیڈین وزیراعظم بھی پارلیمینٹ کے اندر ہی موجود تھَے۔عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ انھیں ایک موٹرکیڈ کے ساتھ بہ حفاظت وہاں سے منتقل کردیا گیا اور وہاں موجود ارکان پارلیمان کو بھی عمارت کے محفوظ تہ خانے میں منتقل کردیا گیا تھا۔فائرنگ کے کے بعد اوٹاوا کے اس حصے کی پولیس نے مکمل طور پر ناکابندی کردی تھی جس کی وجہ سے وہاں ہزاروں ملازمین اور کارکنان اپنے دفاتر میں محصور ہو کررہ گئے تھے۔
فوری طور پر حملہ آور کی شناخت اور اس کے محرکات کا پتا نہیں چل سکا ہے۔کینیڈین حکام نے امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کو ہلاک حملہ آور کے نام سے آگاہ کیا ہے لیکن ایف بی آئی کے ڈیٹابیس سے اس کے بارے میں کوئی تفصیل دستیاب نہیں ہوسکی ہے اور انھوں نے اس حملہ آور کا میڈیا کے لیے نام ظاہر کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔
اس واقعہ سے دوروز قبل ہی ایک شخص نے کیوبک میں مونٹریال مال میں اپنی گاڑی دو فوجیوں پر چڑھا دی تھی جس سے ایک فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔پولیس نے اس پچیس سالہ حملہ آور کا پیچھا کیا تھا اور اس کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔اس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اس کا کسی انتہا پسند گروپ سے تعلق تھا۔
کینیڈا امریکا کی قیادت میں چالیس ممالک کے اس اتحاد میں شامل ہے جو عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) پر فضائی حملوں کی حمایت کررہے ہیں۔ تاہم کینیڈا خود براہ راست داعش کے خلاف جنگی مہم میں شریک نہیں ہے۔وزیراعظم اسٹیفن ہارپر کی حکومت ملک میں اسلامی انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین متعارف کرارہی ہے اور اس ضمن میں وہ بہت جلد قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔