.

داعش سے تیل خریدنے پر اقتصادی پابندیاں لگائیں گے: امریکا

تیل کی فروخت سے داعش کو یومیہ ایک ملین ڈالر کی آمدنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی اوباما انتظامیہ نے داعش سے تیل خریدنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ ان کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کی جا سکتی ہیں۔ اس امر کا انتباہ امریکی نائب وزیر خزانہ ڈیوڈ کوہن نے گذشتہ روز ایک تقریب کے دوران باضابطہ طور پر کیا ہے۔

امریکی اندازے کے مطابق داعش تیل کی فروخت سے یومیہ ایک ملین ڈالر کی خطیر رقم حاصل کر رہی ہے۔ یہ رقم داعش کی سرگرمیوں اور عسکری ضروریات کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

داعش کے بارے میں گمان یہ ہے کہ دنیا بھر کی عسکری تنظیموں میں سے بعض استثنیات کے ساتھ یہ سب سے زیادہ عطیات اور وسائل حاصل کرنے والی تنظیم ہے۔ اس کی آمدنی کے ذرائع میں تیل کی فروخت اور اغواء برائے تاوان سے حاصل ہونے والی رقومات کے علاوہ امیر کبیر افراد سے ملنے والی مالی امداد ہے۔

امریکی نائب وزیر خزانہ نے کہا ہمارے پاس ایسی گولی ہے نہ ایسے خفیہ ہتھیار ہیں جو داعش کو راتوں رات خالی کر دے۔ ڈیوڈ کوہن کے مطابق داعش کا القاعدہ کی طرح عطیات دینے والوں پر زیادہ انحصار نہیں ہے، نہ ہی وسائل کے حصول کے لیے اس کے طریقے روائتی انداز کے ہیں۔

تاہم انہوں نے بتایا امریکا اور اس کے اتحادی داعش کی سرگریوں کو روکنے کے لیے نئی تدابیر اختیار کر رہے ہیں، ان تدابیر میں اسے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کی روک تھام بھی شامل ہے۔

واضح رہے داعش نے عراق اور شام میں تیل کے وسائل پر قبضہ کر کے اس کی سمگلنگ سے ڈالر کمانے شروع کر رکھے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تیل کرد علاقوں اور ترکی منتقل کیا جاتا ہے۔

تیل کی پیداوار کے بارے میں اعداد و شمار اکٹھے کرنے والے ادارے آئی ایچ ایس کے اندازے کے مطابق امریکی فضائی کارروائیوں سے پہلے داعش یومیہ دو ملین ڈالر کا خام تیل پیدا کر رہی تھی۔

امریکا اور اس کے اتحادی جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں ماہ ستمبر میں داعش کو شام میں نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے امریکی جنگی جہاز صرف عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے تھے۔

ان ٹھکانوں میں داعش کے زیر قبضہ آئل فیلڈز اور آئل ریفائنریز بھی شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کی وجہ سے داعش کی یومیہ تیل پیدا کرنے کی صلاحیت 20000 ہزار بیرل کم ہو گئی ہے۔

امریکی ںائب وزیر خزانہ کا کہنا تھا اس کامیابی کے باوجود یہ ابھی بھی ضروری ہے کہ داعش تک وسائل پہنچنے کے دوسرے راستوں کا سد باب کیا جائے۔ اس حوالے سے تیل کے خریداروں، مڈل مینز اور داعش سے تیل کی تجارت کر کے فائدہ اٹھانے والوں کو روکا جائے گا۔

اس سلسلے میں ریفائنریز، اور بروئے کار آنے والی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی کھنگالا جائے گا۔ نائب وزیر خزانہ کے مطابق پہلے مرحلے پر ترکی اور عراق میں کرد حکومت تیل سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو روکیں گی۔