.

ایران: خواتین پر تیزاب پھینکنے کے خلاف احتجاج اور ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے شہر اصفہان میں چند روز قبل نامعلوم افراد کی جانب سے 17 خواتین پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعے کے خلاف سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اپنے احتجاج کو ملک گیر سطح پر پھیلانے کی دھمکی دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے روز اصفہان میں خواتین پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعے کے خلاف بدھ کے روز سے شہر بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ کل جمعہ کو شہر میں شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال بھی کی گئی۔ طلباء نے تعلیمی سرگرمیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد نے اصفہان کی مرکزی انقلاب عدالت کے سامنے جمع ہو کر خواتین پر تیزاب پھینکنے کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین میں اصفہان کی تاجر برادری کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

فارسی نیوز ویب پورٹل’’سحام نیوز‘‘ نے غیر سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس نے اصفہان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں 10 افراد کو حراست میں لے کران سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ حراست میں لیے گئے تمام افراد ’’انصار الحجہ‘‘ نامی ایک گروپ سے وابستہ ہیں جو اس سے قبل بھی خواتین پر حملوں میں ملوث بتائے جاتے رہے ہیں۔

ایرانی اصلاح پسندوں کی نمائندہ ’’گرین موومنٹ‘‘ کی ترجمان ویب سائٹ ’’کلمہ‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جمعہ کے روز اصفہان میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس نے ’’ایسنا‘‘ خبر رساں ایجنسی کے ایک فوٹر گرافر کو حراست میں لے لیا ہے۔

درایں اثناء ایرانی صدر حسن روحانی نے اصفہان میں خواتین پرتشدد اور تیزاب پھینکے جانے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خواتین پر تیزاب پھینکنے میں ملوث عناصر کو جلداز جلد گرفتار کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔

خیال رہے کہ ایران کے مرکزی شہر اصفہان میں گذشتہ ہفتے کے روز نامعلوم افراد نے سترہ خواتین پر تیزاب پھینک دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک خاتون کی موت واقع ہو گئی ہے جبکہ دوسری جھلس کرزخمی ہوئی ہین۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تیزاب پھینکنے جیسے واقعات کے پس پردہ ایران کے انتہا پسند عناصر کا ہاتھ ہے جو خواتین کے آزدانہ ماحول میں زندگی گذارنے کی شدت سے مخالفت کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایرانی انتہا پسند گروپوں کی جانب سے اسلامی پردہ اور حجاب اختیار نہ کرنے والی خواتین کو حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی دھمکی دی گئی تھی۔