.

داعش کا کوبانی پر کنٹرول نہیں ہوگا:جنرل ایلن

عراقی قبائل کو مسلح کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار دولتِ اسلامیہ (داعش) کے خلاف امریکا کی قیادت میں عالمی اتحاد کی جنگی مہم کے رابطہ کار سابق جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ البیش المرکہ کے جنگجو داعش کی کوبانی پر کنٹرول کے لیے کوششوں کو ناکام بنا دیں گے۔

امریکی فوج کے سابق جنرل جان ایلن نے یہ بات العربیہ نیوز چینل کے ساتھ بدھ کو ایک خصوصی اںٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہمارا نہیں خیال کہ کوبانی کا داعش کے ہاتھوں سقوط ہونے والا ہے۔البیش المرکہ کے جنگجوؤں کی آمد اس کو رونما ہونے سے روک دے گی''۔

عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کی سرکاری سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کے ڈیڑھ سو سے زیادہ جنگجو منگل کو شام کے سرحدی شہر کوبانی میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے گئے تھے۔وہ ترکی کے سرحدی علاقے میں پہنچنے کے بعد بدھ کو کوبانی کی جانب رواں دواں تھے۔

دوسری جانب عراق میں داعش کی پیش قدمی کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ دارالحکومت بغداد کے نزدیک پہنچ چکے ہیں اور اس پر چڑھائی کرسکتے ہیں۔عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کا کہنا ہے کہ امریکی ،برطانوی اور ایرانی مشیر ان کے ملک کی سکیورٹی فورسز کو اس جنگجو گروپ کے خلاف جنگ میں مدد دے رہے ہیں۔

امریکا اور ایران میں سخت مخاصمت پائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک داعش کے خلاف جنگ میں اکٹھے ہیں اور ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔جنرل جان ایلن نے بھی داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایران کے اس کردار کو مسترد نہیں کیا ہے۔انھوں نے انٹرویو میں کہا کہ ''ایران کا عراق میں ایک کردار ہے اور ہم اس کی جانب سے کیے جانے والے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں''۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی اتحاد نے داعش کے خلاف جنگ میں میدان میں آنے والے عراقی قبائل کو مسلح کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔شام میں جاری تنازعے پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ ''شام کا مستقبل بشارالاسد کے بغیر ہوگا''۔واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے سابق جنرل جان ایلن کو اتحادی ممالک کی شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگی مہم کو مربوط بنانے کے لیے رابطہ کار مقرر کیا تھا۔