.

سعودی عرب کے الاحساء شہر میں فائرنگ، پانچ ہلاک

واقعہ الدالوہ گاوں کی امام بارگاہ کے سامنے پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں نقاب پوش مسلح افراد کی فائرنگ سے کم ازکم پانچ افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ ضلع الاحساء کے گاؤں الدالوة میں منگل کے روز پیش آیا۔ حکام کے مطابق فائرنگ میں ملوث چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ہونے والے وہ سعودی شہری بتائے جاتے ہیں جو شام اور عراق کے شورش زدہ علاقوں سے علاقے میں داخل ہوئے۔ الاحساء کا علاقہ سعودی عرب میں اقلیتی شیعہ آبادی کے مراکز میں سے ایک ہے اور بظاہر یہ اس فرقے تعلق سے تعلق رکھنے والوں پر حملہ تھا۔

سعودی پریس ایجنسی نے پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ لوگوں کا ایک گروپ ایک عمارت سے باہر آ رہا تھا جب تین نقاب پوش حملہ آوروں نے ان پر مشین گنوں اور پستولوں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ایجنسی کے مطابق واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے ایک 'مقدس' مقام پر اس وقت پیش آیا جب یہاں لوگ عاشورہ کے سلسلے میں جمع تھے۔

الدالوہ میں امام بارگاہ کے باہر فائرنگ کے واقعے کی شیعہ رہنماوں بشمول سید حسن نمر نے شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ اہل تشیع پر نہیں بلکہ مسلمانوں کے دو اہم فرقوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں ان کوششوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

ادھر منگل کو عراق میں یوم عاشور کے موقع پر پورے ملک میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان مقدم مقامات اور مزارات میں جمع ہیں جب کہ کسی بھی دہشت گردانہ حملے سے بچنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز انتہائی چوکس ہیں۔