.

ایران ،روس میں دو نئے جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور ایران کے درمیان دو نئے جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر کا معاہدہ طے پایا ہے۔

اس معاہدے کے تحت روس ایران کے بوشہر میں واقع پاور پلانٹ میں دو نئے جوہری ری ایکٹر تعمیر کرے گا جس کے بعد ایران کے جوہری ری ایکٹروں کی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔

روس کی مقامی خبررساں ایجنسی نے منگل کے روز سرکاری نیو کلئیر کمپنی روستم کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بوشہر کے علاوہ ایران میں کسی اورمقام پر بھی چار روسی ری ایکٹر تعمیر کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ ایران میں جوہری ایندھن کے اجزاء کی تیاری کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ایران میں جوہری ایندھن کی تیاری سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر روس کے جوہری ادارے رستم کے سربراہ سرگئے کرینکو اور ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے دستخط کیے ہیں۔واضح رہے کہ بوشہر میں روس نے ہی نوے کی دہائی میں جوہری پاور پلانٹ تعمیر کیا تھا۔

روس اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ موخرالذکر ملک کی چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری ڈیل کے لیے 24 نومبر کی ڈیڈلائن سے قبل طے پایا ہے۔دونوں فریقوں کے درمیان اومان میں مذاکرات کا حالیہ دور بے نتیجہ رہا ہے۔اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنا حساس نوعیت کا جوہری کام بند کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید امریکا اور مغربی ممالک کی پابندیاں بتدریج ختم کردی جائیں گی۔

روس بھی اس مذاکراتی عمل میں شریک ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل چار دوسرے ممالک اور جرمنی سے مل کر ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر بات چیت کررہا ہے۔تاہم وہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کی منشا کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگانے کے حق میں نہیں ہے اور اس نے ایران کے ساتھ جوہری شعبے میں تعاون جاری رکھا ہوا ہے۔