سعودی عرب :تارکین وطن کی کم سے کم اُجرت 2500 ریال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی وزارت محنت نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودیوں کے لیے کم سے کم اجرت 5300 ریال اور غیرملکی تارکین وطن کے لیے ڈھائی ہزار ریال مقرر کرنے پر غور کررہی ہے۔

سعودی لیبر مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق اس فیصلے پر 2015ء سے عمل درآمد کا آغاز ہوگا۔اس وقت تک اُجرت کے تحفظ کے پروگرام کا تیسرا اور آخری مرحلہ ختم ہوجائے گا۔اس پروگرام کے دوسرے مرحلے کا مارچ میں آغاز ہوا تھا اورا س کا اطلاق ان کمپنیوں پر کیا گیا تھا جہاں ایک ہزار یا اس سے زیادہ ملازمین کام کررہے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت نجی شعبے میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں اور اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سعودی اورغیر سعودی (غیرملکی تارک وطن) ملازمین کی تن خواہیں براہ راست ان کے بنک کھاتوں میں منتقل کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کم سے کم اُجرتیں مقرر کرنے کا مقصد سعودیوں کو زیادہ تعداد میں نجی شعبے میں کھپانا اور کام کرنے کی جانب راغب کرنا ہے تاکہ شہریوں کو روزگار دینے کے عمل میں تیزی آئے اور نجی شعبے میں جعل سازی سے سعودیانے کا خاتمہ ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق وزارت محنت نجی کمپنیوں کی سعودی شہریوں اور غیر ملکی تارکین وطن دونوں کے لیے کم سے کم اُجرت کے قانون پر عمل درآمد کے لیے برقی نگرانی کرے گی اور یہ بھی دیکھے گی کہ وہ اپنی ملازمین کی تن خواہوں کی ادائی میں تاخیر بھی نہ کریں۔

سعودی لیبر مارکیٹ کمیٹی کے چئیرمین منصور الشیثری کے مطابق اس وقت نجی شعبے میں کل سولہ لاکھ ستر سعودی شہری کام کررہے ہیں جبکہ سرکاری محکموں میں مقامی ملازمین کی تعداد قریباً پانچ لاکھ ہے۔الشیثری کا کہنا ہے کہ اس وقت نجی شعبے میں کام کرنے والے بہت سے سعودی ملازمین کی تن خواہیں غیرملکی تارکین وطن کے مقابلے میں کم ہیں۔

عالمی بنک اور سعودی عرب کی وزارت برائے قومی معیشت اور منصوبہ بندی نے حال ہی میں ایک مطالعاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں نجی شعبے میں خلیج تعاون کونسل کے دوسرے رکن ممالک کے مقابلے میں مقامی شہریوں کی تن خواہیں کم ہیں۔اس مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک ہی ملازمت کے لیے سعودی مردوں کی تن خواہیں خواتین کے مقابلے میں بیس فی صد زیادہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں