.

سعودی شاہ عبداللہ: الریاض معاہدے کا خیرمقدم

مصر سےعرب یک جہتی برقرار رکھنے کے لیے تعاون کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے دارالحکومت الریاض میں خلیج تعاون کونسل کے حالیہ ہنگامی اجلاس میں طے پائے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے نتیجے میں تنظیم کے تین رکن ممالک اور قطر کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہوا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق شاہ عبداللہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ الریاض معاہدے سے اختلافات کا خاتمہ ہوگا اور اس سےعرب اتحاد کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔

شاہ عبداللہ نے کہا کہ ''ہم اللہ کے شکرگزار ہیں جس کی منشاء سے ہمارے علاوہ متحدہ عرب امارات ،بحرین اور کویت سے تعلق رکھنے والے بھائیوں نے گذشتہ اتوار کو الریاض معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔اس کی توفیق سے ہم اپنے تمام اختلافات کے خاتمے کے قابل ہوئے ہیں اور تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہوئے ہیں''۔

مصری تعاون

سعودی فرمانروا نے مصر پر بھی زوردیا ہے کہ وہ خلیجی تعاون کونسل کے معاہدے کی حمایت کرے۔انھوں نے مصر کی قیادت اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ عرب یک جہتی کو برقرار رکھنے کے لیے ہمارے اس اقدام کی حمایت کریں۔

مصر نے شاہ عبداللہ کی اس اپیل کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کی درخواست پر تعاون کرے گا۔مصری ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''مصر عرب یک جہتی کے لیے اس دیانت دارانہ دعوت کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس پر اپنے بھرپور ردعمل کا اظہار کرے گا''۔

بیان میں قطر کا خاص طور پر کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ہے لیکن مصر اور قطر کے درمیان تعلقات میں گذشتہ سال منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی تب مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد کشیدگی آگئی تھی اور مصر نے دوحہ میں متعین اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

خلیج تعاون کونسل نے اتوار کی شب سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقدہ غیرعلانیہ اجلاس میں قطر کے ساتھ اختلافات کے خاتمے سے اتفاق کیا تھا۔ العربیہ نیوز چینل کی اطلاع کے مطابق چھے ملکی اتحاد نے سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفراء کو واپس دوحہ بھیجنے سے اتفاق کیا تھا جس کے ساتھ ان کے درمیان گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری سفارتی تنازعے کا بھی خاتمہ ہوگیا تھا۔

قطر پر مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی حمایت اور اس کے لیڈروں کو پناہ دینے کا الزام تھا جبکہ سعودی عرب ،یو اے ای اور بحرین اخوان المسلمون کے مخالف تھے اور انھوں نے اس جماعت کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔اس کے بعد ان تینوں ممالک نے مارچ 2014ء میں دوحہ سے اپنے سفیروں کو بھی واپس بلا لیا تھا۔1981ء میں جی سی سی کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اس کے رکن ممالک کے درمیان اس طرح کا سفارتی بحران پیدا ہوگیا تھا۔