.

ایران کے جوہری تنازعے پر مذاکرات میں جون 2015ء تک توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ویانا میں جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ طے نہ پانے کے بعد مذاکرات میں جون 2015ء تک توسیع کردی گئی ہے۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے لیے سوموار 24 نومبر کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن تک متنازعہ امور طے نہیں پا سکے ہیں جس کے بعد طرفین نے مذاکرات کو آیندہ جون کے آخرتک جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔

برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مذاکرات کے آخری دور میں نمایاں پیش رفت ہوئی تھی۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف نے اتوار کی رات ملاقات کی تھی اور اس میں انھوں نے 24 نومبر کے بعد بھی مذاکرات جاری رکھنے سے اتفاق کیا تھا۔

تاہم چینی وزیرخارجہ وانگ وائی نے کہا ہے کہ مذاکرات کار ابھی تک حتمی سمجھوتے کے لیے مشاورت کررہے ہیں تاکہ ایران کو امریکا کی عاید کردہ پابندیوں میں ریلیف مل سکے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فی الوقت حتمی معاہدے کے لیے کوششوں کو ابھی ترک نہیں کیا گیا ہے۔

مسٹر وانگ سوموار کو ویانا پہنچے ہیں اور وہ بھی امریکا ،روس ،برطانیہ ،فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کے ساتھ جوہری تنازعے پر حتمی معاہدے کے لیے بات چیت میں شرکت کررہے ہیں۔

ویانا میں ایران کی عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کرنے والی ٹیم نے اتوار ہی کو یہ کَہ دیا تھا کہ طرفین کے درمیان پہلے سے طے شدہ ڈیڈلائن کے مطابق سوموار تک جوہری معاہدہ ممکن نہیں ہے۔

مذاکرات میں شریک ایرانی اور مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ طرفین میں ایران کی یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق بنیادی ایشوز اور پابندیاں ہٹانے سے متعلق امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔دونوں فریق اس وقت جوہری پروگرام سے متعلق بڑے ایشوز مثلاً سینٹری فیوجز کی تعداد ،یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت اور ایران پر عاید پابندیاں ہٹانے کے نظام الاوقات سے متعلق ایک فریم ورک سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔