ایران بشار الاسد کے مستقبل پر بات چیت کے لیے تیار: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس کے بعد ایران نے بھی شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں لچک دکھانے کا عندیہ دیا ہے۔ ایک سفارتی ذریعے نے بتایا ہے کہ تہران صدر بشار الاسد کی حمایت میں لچک کا مظاہرہ کرنے اور ان کے سیاسی مستقبل پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

سفارتی ذرائع سے 'العربیہ' نیوز چینل کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شام کے بحران کے حوالے سے ایران کے موقف میں ایک ڈرامائی تبدیلی کا امکان دیکھا جا رہا ہے کیونکہ تہران میں پس چلمن صدر بشارالاسد کے شام میں سیاسی کردار کو محدود کرنے کےحوالے سے باتیں ہو رہی ہیں۔

فرانسیسی سفارتی ذریعے نے’’العربیہ‘‘ کو بتایا ہےکہ حال ہی میں تہران کی جانب سے پیرس حکام کو یہ پیغام بھیجا گیا ہے کہ وہ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں نئے عزم کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اس ضمن میں صدر بشارالاسد کو اقتدر میں رکھے جانے یا ہٹانے سمیت مختلف پہلوئوں پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حالات میں امریکا، ایران کے ساتھ اپنے معاملات کو کسی الجھن کا شکار نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس وقت عراق میں امریکا کے سیکڑوں فوجی عراقی فورسز کی عسکری تربیت میں مصروف ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی سے عراق میں موجود امریکی فوجیوں کے لیے پریشانی کا موجب بن سکتی ہے۔

سفارتی ذریعے نے کہا کہ شامی حکومت اپنی بقاء کی طاقت کھو چکی ہے۔ ملک کے بیشتر دفاعی اور عسکری وسائل پر باغیوں کا قبضہ ہے اور صدر بشار الاسد کی حکومت دن بہ دن سکڑتی جا رہی ہے۔ ایسے میں ایران کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ صدر بشارالاسد کی غیر مشروط حمایت کا بھی اب کوئی فائدہ نہیں رہا ہے۔

شام کے بحران کے حل کے لیے ایران کے موقف میں تبدیلی کی خبریں ایک ایسے وقت میں آئی ہیں جب روس نے بھی صدر بشارالاسد کی حمایت کے حوالے سے اپنے موقف میں لچک دکھانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں