.

'دی انٹرویو' کی ریلیز کا فیصلہ قابل تحسین ہے: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے شمالی کوریا کی دھمکیوں کے باوجود آمر حکمران کم جونگ اُن کی شخصیت کے حوالے سے سونی پکچرز کی تیارکردہ مزاحیہ فلم ’دی انٹرویو‘ کی نمائش کے لیے پیش کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ترجمان ایرک شلز نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ ہم آزادی اظہار میں یقین رکھنے والی قوم ہیں۔ ہم فنکارانہ اظہار کے حق میں ہیں۔

یاد رہے فلمیں بنانے والے ادارے سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ نے شمالی کوریا کے آمر حکمران کم جونگ اُن کی شخصیت کے حوالے سے بنائی گئی مزاحیہ فلم ’دی انٹرویو‘ کو محدود نمائش کے لیے پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سونی انٹرٹینمنٹ کی اس فلم کی ریلیز اس وقت تعطل کا شکار ہو گئی تھی، جب ایک سائبر حملے کے بعد امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھا گیا تھا اور یہ معاملہ ایک بین الاقوامی تنازعے کی شکل اختیار کر گیا تھا۔

امریکا نے اِس حملے کو ملکی سکیورٹی پر حملے کے تناظر میں دیکھا تھا۔ دوسری جانب شمالی کوریا نے سونی پکچرز پر سائبر حملے کی تردید کی تھی۔ ابتدائی پروگرام اور پلان کے تحت پچیس دسمبر کو فلم ’دی انٹرویو‘ کا ریڈ کارپٹ افتتاح نیویارک کے سن شائن سینما گھر پر کیا جانا تھا۔

سونی انٹرٹینمنٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مائیکل لینٹن نے گذشتہ روز کہا کہ کرسمس کے دن متعدد تھیٹروں میں یہ فلم نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ اس کوشش میں ہے کہ اس فلم کو دیگر تھیٹروں میں بھی پیش کیا جا سکے۔

لیٹن کا کہنا تھا کہ سونی نے کبھی نہیں کہا کہ یہ فلم ریلیز نہیں کی جائے گی۔ لیٹن کے مطابق امید ہے کہ فلم کی بھرپور ریلیز کی جانب یہ پہلا قدم ہو گا۔ چند روز قبل سونی پکچرز کی جانب سے ریلیز کی منسوخی کا اعلان کرنے کی ایک وجہ کئی سینما گھروں کی جانب سے فلم دکھانے سے معذرت بھی تھا۔

'دی انٹرویو' کی ریلیز کے اعلان کو فلم کے شائقین کی جانب سے مثبت انداز میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اِس فلم کی ریلیز اُن سینما گھروں میں ممکن ہو رہی ہے جو کسی بڑی کمپنی کے ساتھ جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ سینما گھروں کے ملازمین اور شائقین کو دی جانے والی دھمکیوں کے تناظر میں امریکا میں کئی شہروں کے بیشتر سینما گھروں نے فلم کی نمائش سے انکار کر دیا تھا۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکا میں بیشتر سینما گھر کسی نہ کسی بڑی فرم سے منسلک ہیں۔ ان اہم فرموں میں ریگل، اے ایم سی اور کارمِک نمایاں ہیں۔ ان کی جانب سے فلم کی نمائش کے لیے سینما مہیا نہ کرنے پر سونی پکچرز کے ادارے نے مجبوراً اعلان کر دیا تھا کہ وہ اپنے پارٹنرز کے جذبات کا احترام اور اُن کے سکیورٹی و معاشی مفادات کے ساتھ ساتھ ملازمین و شائقین کے تحفظ کو مدِ نظر رکھتے ہیں۔ کینیڈا کے سینما گھروں کے سلسلے سِنے پلیکس انٹرٹینمنٹ نے بھی فلم کے لیے سینما فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

فلم ’ دی انٹرویو‘ بنیادی طور پر ایک طربیہ فارمیٹ ہے۔ فلم میں ایک خیالی پلاٹ کو فلم کا روپ دیا گیا ہے اور اِس میں شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کو قتل کرنے کا منصوبہ دکھایا گیا ہے۔ فلم کا حقیقت نگاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک دو ہفتے قبل شمالی کوریا کی خفگی کے علاوہ ہیکرز کے ایک گروپ جی او پی (گارڈین آف پیس) نے اِس فلم کے دیکھنے والے شائقین کے لیے انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ اپنی سلامتی کے خود ذمہ دار ہوں گے اور ستمبر گیارہ کو اپنے دماغ میں رکھیں۔ گارڈین آف پیس کا پیغام ٹوٹی پھوٹی انگلش میں جاری کیا گیا تھا۔ اِس بیان میں سونی پکچرز کو بھی متنبہ کیا گیا کہ وہ جلد ہی دیکھ لے گی کہ اُس نے کس قسم کی فلم تیار کی ہے۔