.

فجر لیبیا کا حملہ،19 سرکاری فوجی مارے گئے

السدرہ ٹرمینل پر کھڑے ٹینکر کو راکٹ لگنے سے آگ بھڑک اٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر سرت میں اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل فجر لیبیا نے سرکاری فوج پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں انیس فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

اسلامی جنگجوؤں کی لیبیا کی سرکاری فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں کے ساتھ پہلے ہی مشرقی شہر بن غازی میں خونریز لڑائی جاری ہے اور اب انھوں نے سرت میں ایک نیا محاذ کھول لیا ہے۔

اس شہر میں ہلاکتوں سے قبل السدرہ کی بندرگاہ پر جھڑپوں کے دوران ایک راکٹ تیل کے ایک ٹینکر پر آگرا جس سے ٹینکر کو آگ لگ گئی ہے۔ فجر لیبیا کی اس علاقے کی جانب پیش قدمی کے بعد السدرہ اور راس لانوف کی بندر گاہوں کو بند کیا جاچکا ہے۔فجر لیبیا دارالحکومت طرابلس میں قائم اسلام پسندوں کی حکومت کے تحت ہے جبکہ ان بندرگاہوں پر طبرق میں قائم وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے تحت فورسز کا کنٹرول تھا۔

لیبی حکومت کے تحت سکیورٹی سروسز کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ تیل کے ٹینکر کو راکٹ لگنے سے کوئی بہت زیادہ نقصان تو نہیں ہوا ہے۔ البتہ دمِ تحریر اس ٹینک کو آگ لگی ہوئی تھی اور اس کی سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر بھی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں۔ان میں بندرگاہ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اس عہدے دار کے بہ قول السدرہ کے مغرب میں واقع علاقے بنی جواد میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہورہی ہیں اور اس علاقے میں لڑائی کے نتیجے میں لیبیا کی خام تیل کی یومیہ پیداوار کم ہوکر تین لاکھ باون ہزار بیرل رہ گئی ہے۔