.

لیبیا: مصراتہ پر سرکاری فوج کا فضائی حملہ

السدرہ کی بندرگاہ پر لڑائی کے دوران تیل کے سات ٹینک نذرآتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی وفادار فورسز نے ملک کے تیسرے بڑے شہر مصراتہ پر اپنی مخالف ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

لیبی فوج کے کرنل احمد میسمری نے کہا ہے کہ فجرلیبیا کی جانب سے مشرقی بندرگاہ السدرہ پر اتوار کی صبح قبضے کے لیے حملے کے ردعمل میں مصراتہ میں مختلف اہداف پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سرکاری طیاروں نے مصراتہ ائیرپورٹ کے نزدیک واقع ایوی ایشن اسکول ،بندرگاہ اور ایک اسٹیل پلانٹ کو بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔فجر لیبیا جمعرات سے السدرہ اور اس کے نزدیک واقع راس لانوف کی بندرگاہ پر قبضے کے لیے حملے کررہی ہے۔ایک اسپیڈ بوٹ پر سوار فجر لیبیا کے جنگجوؤں نے السدرہ پر اچانک حملہ کر کےبائیس فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

السدرہ میں متحارب فورسز کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں تیل کے انیس میں سے سات ٹینک جل چکے ہیں۔13 دسمبر کو تیل برآمد کرنے والے ٹرمینلز کے نزدیک لڑائی کے آغاز کے بعد سے لیبیا کی تیل کی پیدوار کم ہوکر ساڑھے تین لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے جبکہ اس سے قبل تیل کی یومیہ پیدوار آٹھ لاکھ بیرل تھی۔

ان تمام ٹینکوں میں باسٹھ لاکھ بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ایک لیبی عہدے دار کے بہ قول جمعرات کے بعد سے سولہ لاکھ بیرل خام تیل آگ کی نذر ہوچکا ہے۔السدرہ کی بندرگاہ پر چار روز قبل جھڑپوں کے دوران ایک راکٹ تیل کے ایک ٹینکر پر آ کر گرا تھا جس سے اس ٹینکر کو آگ لگ گئی تھی اور پھر وہ آہستہ آہستہ باقی چھے ٹینکروں تک بھی پھیل گئی تھی۔

مختلف اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کی اس علاقے کی جانب پیش قدمی کے بعد السدرہ اور راس لانوف کی بندر گاہوں کو بند کیا جاچکا ہے۔فجر لیبیا دارالحکومت طرابلس میں قائم اسلام پسندوں کی حکومت کے تحت ہے جبکہ ان بندرگاہوں پر طبرق میں قائم وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے تحت فورسز کا کنٹرول تھا۔