یمن متحارب قبائل کے درمیان جھڑپوں میں 35 افراد ہلاک
یمن کے وسطی شہر رداع میں خٰبزہ اور المناسخ کے مقامات پر القاعدہ کے حمایت یافتہ قبائل اور اس کے حریف اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں کم سے کم پینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ایک قبائلی ذریعے نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ حوثیوں اور دوسرے قبائل کے درمیان خون ریز جھڑپیں اس وقت ہوئی ہیں جب حوثی جنگجوئوں نے خبزہ کے علاقے میں قیفہ قصبے کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ اس دوران متحارب فریقین نے ایک دوسرے پر بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دونوں گروپوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ذرائع کےمطابق القاعدہ نواز قبائلیوں نے حوثیوں کی ایک گاڑی کو بارودی سرنگ سے تباہ کر دیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
یمنی میڈیا کے مطابق منگل کے روز حوثیوں اور دیگر قبائل کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم 25 حوثی شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف متحارب قبیلے کے چھ اور القاعدہ کی ذیلی تنظیم انصار الشریعہ کے تین جنگجو مارے گئے۔ جھڑپوں میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ یمن میں البیضاء گورنری کا بڑا شہر رداع پچھلے کئی ہفتوں سے حوثیوں اور سنی قبائل کے درمیان میدان جنگ بنا ہواہے۔ حوثی جنگجوئوں کے حملے میں اس شہرمیں اب تک کئی سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔