.

کویت :رکن پارلیمان کو شراب سے متعلق بیان پر مقدمے کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویتی پارلیمان کے ایک آزاد رکن کو ملک میں شراب کی فروخت کو قانونی قرار دینے کی حمایت پر مقدمے کا سامنا ہے۔

رکن پارلیمان نبیل الفضل نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے عوامی مقامات پر موسیقی کے کنسرٹس اور میلوں میں ڈانس پر پابندی سے متعلق قانون کی تنسیخ کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔کویتی قانون کے تحت لوگوں پر کنسرٹس میں ڈانس کرنے پر پابندی عاید ہے۔البتہ وہ ہاتھوں سے صرف تالیاں بجا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے بعد پارلیمان میں ان سے ایک اسلامی رکن نے کہا تھا کہ ''اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ پھر کنسرٹس کے دوران شراب کی فروخت پرعاید پابندی ختم کرنے کی بھی حمایت کریں گے''۔اس کا نبیل الفضل نے یہ جواب دیا تھا:''کیوں نہیں؟ تاریخی طور پر کویت میں بہت سے لوگ بیشتر مواقع پر شراب پیتے ہیں''۔

کویت ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق'' پارلیمان کے بیشتر ارکان نے الفضل کی یہ بات کہنے پر فوری مذمت کی تھی کہ شراب کویت کی تاریخ کا حصہ ہے، ان کے آباء واجداد ماضی میں شراب کے استعمال کی اجازت دیتے رہے ہیں اور وہ اس معاملے میں رواداری کا مظاہرہ کیا کرتے تھے''۔

ایک رکن پارلیمان سعود الحریجی نے کویت ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''الفضل نے کویتیوں کے تشخص اور ملک کی تاریخ کو داغدار کیا ہے''۔ ایک اور رکن حمود الحمدان کا کہنا ہے کہ''کویتیوں کے آباء واجداد شراب نوشی سمیت اخلاقی برائیوں کے خلاف جنگ کے لیے مشہور رہے تھے۔

مسٹر الفضل کا کہنا ہے کہ ''ایک اسلام پسند وکیل نے ان کے خلاف ان کے بیان پر مقدمہ دائر کیا ہے اور ان پر کویتی معاشرے کی بے توقیری کا الزام عاید کیا ہے حالانکہ وہ کویت کی تاریخ میں شراب سے متعلق حقائق کا حوالہ دے رہے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ بلیک مارکیٹ میں لوگ شراب کی ایک بوتل 120 دینار(408 ڈالرز) میں خرید کرسکتے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''کویت میں کافی مقدار میں شراب موجود ہے لیکن اس کو صرف امیر لوگ ہی خرید کر سکتے ہیں۔اس ضمن میں ایک اچھا آغاز یہ ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو بیرون ملک سے اپنے ساتھ شراب لانے کی اجازت دے دی جائے اور اس کو ضبط نہ کیا جائے''۔مسٹر الفضل کا کہنا ہے کہ وہ ان خیالات کے باوجود شراب کی فروخت کو قانونی قرار دینے کے لیے بل تجویز کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

یادرہے کہ کویت کی پہلی پارلیمان نے سنہ 1964ء میں شراب کی فروخت پر پابندی عاید کردی تھی۔ اسلام میں شراب حرام ہے۔اگرچہ یہ خلیجی عرب ممالک متحدہ عرب امارات ،قطر ،اومان اور بحرین میں بعض پابندیوں کے ساتھ فروخت کی جاتی ہے۔