حرمین الشریفین: عظیم توسیعی منصوبہ، ہزاروں کارکن ہمہ تن مصروف

توسیع کے بعد حرم کعبہ میں بیس لاکھ نمازی سما سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عالم اسلام کے مقدس ترین مرکز حرم کعبہ کی توسیع کے عظیم الشان منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ہزاروں کارکن ہمہ تن مصروف ہیں۔ یہ عظیم الشان منصوبہ جس کے حجم، کام کی رفتار اور تقدس کے باعث اسے صدی کا منصوبہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔ یہ منصوبہ خادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ نے شروع کرایا ہے۔

اس تاریخی اہمیت کے منصوبے کی تکمیل کے بعد بیس لاکھ نمازی با آسانی ایک وقت میں حرم میں سما سکیں گے۔ ایک سو ارب ریال کی خطیر رقم سے شروع کیے گئے اس منصوبے کو تین مراحل میں مکمل کیا جا رہا ہے۔

عظیم منصوبے کے تحت مسجد حرام کی عمارت کی تعمیر و توسیع کے علاوہ صحن مسجد کی وسعت کے ساتھ ساتھ مطاف کی وسعت اہم ہے ۔ علاوہ ازیں مسجد حرام کو ملانے والے زیر زمین راستوں ، میناروں ، دروازوں اور سیڑھیوں سبھی کو وسعت دی جارہی ہے۔ آب زم زم کی دستیابی کو برقی نظام سے مربوط کرنے کے بعد مزید جدید بنیادوں پر فراہمی بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

پوری مسجد حرام اور مطاف کو ائیر کنڈیشنڈ کیا جارہا ہے۔ تاکہ موسم کی شدت کے باوجود حجاج کرام بہ سپولت مناسک ادا کر سکیں۔ صحن مسجد میں وسعت زیدہ تر صحن کے شمالی حصہ میں ہو رہی ہے۔ اس وسعت کا آغاز باب مروا سے ہو گا اور اختتام باب ہرات، جبل الہند سے ہوتے ہوئے باب فہد تک ہو گی۔
تعمیراتی اور توسیعی منصوبے کا تیسرا مرحلہ مطاف پر مشتمل ہے اور اس سلسلے میں کام اپنے عروج پر پے۔ مطاف میں وسعت سے اس کی موجودہ گنجائش سے تین گنا سے زیادہ ہو جائے گی اور ایک گھنٹے کے دوران ایک لاکھ پچاس ہزار افراد طواف کر سکیں گے۔

مجموعی طور پر توسیعی کا تین سالہ منصوبے کے تحت جاری ہے اور اس وقت تیسرا سال جاری ہے۔ حرمین الشریفین کی مجلس انتظامی کے صدر عبدالرحمان السدیس کے مطابق آنے والے حج سے پہلے مطاف کی توسیع مکمل کر لی جائے گی۔

واضح رہے یہ تعمیراتی منصوبہ مجموعی طور پر اکیاسی ہزار پانچ سو سڑسٹھ مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ حجاج کرام کو اس توسیع کا پہلے مرحلے پر فائدہ صفاء اور باب فتح ، تہہ خانوں اور دوسرے فلور کی توسیع سے ہوا۔

پہلے مرحلے میں ساونڈ سسٹم ، لائٹنگ سسٹم، ائیر کنڈیشنشننگ سسٹم، اور عارضی مطاف سے مکمل ہوا۔ عارضی مطاف سے ہر گھنٹے میں سات ہزار حجاج نے استفادہ کیا۔ اس توسیعی عمل میں اعلی ترین معیار ، تحفظ کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔

توسیعی منصوبے کے مطابق دوسرے اور تیسرے فلور کو بزرگ شہریوں کے لیے کیبل کار سے ملایا جائے گا۔ ان فلورز تک رسائی مسجد حرام کے باہر سے براہ راست سیڑھیوں کے ذریعے بھی ممکن بنائی گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ تیسرے مرحلے میں بائیس برقی سیڑھیاں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح ضعیف العمر حجاج کے لیے آب زم زم تک رسائی کے لیے بارہ لفٹیں بھی لگائی جارہی ہیں ۔ مطاف میں توسیع کے لیے دور عثمانی میں تعمیر ہوے والی مسجد کے حصے کو اب مطاف کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

عمارات کی تزئین و آرائش کی ماہر ترک کمپنی ان دنوں سے پالش اور پینٹ کا ٹاسک پورا کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نئے اور کھلے دروازوں کی تعمیر حاجیوں کو کم رش کا سامنا ہو گا۔ توسیع کا کام بنیادی طور پر تین سمتوں میں ہو رہا ہے ۔ تعمرات کی تکمیل کے ساتھ ہی ائیر کنڈیشننگ کا موجودہ نظام ختم کر دیا جائے گا۔

مسجد حرام اس وقت تین لاکھ چھپن ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے اور اس میں سات لاکھ ستر ہزار افراد بیک وقت نما ادا کر سکتے ہیں۔ توسیع کے بعد مسجد کا رقبہ ایک لاکھ مربع میٹر بڑھ جائے گا اور نمازیوں کی گنجائش بارہ لاکھ ہو جائے گی۔

اس منصوبے کی تکمیل کی ذمہ داری بن لادن کمپنی کے پاس ہے جبکہ سعودی وزارت خزانہ منصوبے کی نگرانی کر رہی ہے۔
بارہ سو میٹڑ لمبی سرنگ تعمیرات کے بعد تعمیر کی جائے گی جس سے توسیعی عمل جبل الہند تک چلا جائے گا۔ دوسری سرنگ جبل المضافی تک ہو گی اس کی لمبائی گیارہ سو میٹر ہو گی۔ ایک سات سو میٹع پر محیط سرنگ ہنگامی ضروریات کے لیے تعمیر کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں