.

یمن: حوثیوں کو مآرب قبائل کی سخت دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت مخالف بندوق بردار حوثی اور القاعدہ گروپوں کی سرکاری فوج کے ساتھ ملک کے جنوبی اضلاع مآرب اور ابین میں تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مآرب کے قبائل نے خبردار کیا ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے شہر پر یلغار کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی یمن کے علاقے ابین میں القاعدہ جنگجوئوں اور فوج کے 39 ویں آمرڈ بریگیڈ کے ساتھ المحفد کے مقام پر جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب عسکریت پسندوں نے فوجی کیمپ پر ھاون راکٹوں سے حملہ کر دیا۔ فوج نے القاعدہ کے حملے کے جواب میں پہاڑی علاقوں میں جنگجوئوں کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مآرب کے سنی قبائل نے حوثیوں باغیوں کے حملے کی صورت میں سخت کارروائی پر وارننگ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ صدر عبد ربہ منصور الھادی اور وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں امن وامان کے قیام کے لیے فوج کی بھرپور مدد کرے۔

قبائل نے خبردار کیا کہ اگر حوثی انتہا پسندوں کی جانب سے مآرب پر حملے کی کوشش کی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ ایک قبائل ذریعے نے العربیہ ٹی وی کو بتایا کہ حوثیوں نے مآرب کی جانب بکتر بند گاڑیوں، ٹینکوں اور راکٹ لانچرز کی بھاری مقدار کے ساتھ پیش قدمی شروع کی ہے۔ ادھر صعدہ سے عمران اور الجوف کی طرف بھی حوثی تیزی کے ساتھ آگے بڑرھے ہیں۔ انہیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی قبائل کی بھی بھرپور مدد اور معاونت حاصل ہے۔

ذرائع کے مطابق الجوف اور مآرب کے درمیان ملٹری پولیس کی قائم کردہ چوکیوں کو بھی اٹھالیا گیا ہے جس کے بعد حوثیوں اور مآرب کے قبائلی جنگجوئوں کےدرمیان خونریز جھڑپوں کا خدشہ ہے۔

حال ہی میں مآرب کے قبائل کی جانب سے صدر اور وزیر اعظم کو الگ الگ خطوط بھی ارسال کیے گئے ہیں جن میں مآرب کو حوثیوں اور القاعدہ کے جنگجوئوں کی جانب سے درپیش خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے۔