.

سوڈان: اپوزیشن جماعتوں کا مذاکراتی عمل سے علیحدگی کا فیصلہ

سیاسی مذاکرات عمر البشیر کی دعوت پر پچھلے سال شروع ہوئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی تقریباً اکیس اپوزیشن جماعتوں نے ایک سال پر محیط مذاکراتی عمل سے خود کو الگ کر لینے کا عندیہ دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے اس امر کا اظہار مفاہمتی عمل میں آنے والی خرابی کے بعد کیا ہے۔

سوڈان کے صدر عمر البشیر نے تمام سیاسی جماعتوں کو مفاہمت کی طرف لانے کے لیے پچھلے سال ماہ جنوری میں مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ تاہم ان مذاکرات کے حوالے سے بہت کم کا میابی مل سکی ہے۔

ابھی سامنے آنے والے اعلان کے مطابق اٹھارہ اپوزیشن جماعتیں صدر عمر البشیر کے زیر صدارت بدھ کے روز ہونے والے مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔

ریفارم پارٹی کے رہنما حسن عثمان رزق نے کہا ''ہم نے مذاکرات سے علیحدگی کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ صدر نے سیاسی قیدیوں کی رہائی سے انکار کر دیا ہے۔'' واضح رہے حسن عثمان رزق اس سے پہلے عمر البشیر کی کابینہ میں بھی شامل رہ چکے ہیں۔

ایک اور اپوزیشن جماعت نے سیاسی عمل کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے کہ "پچیس برسوں سے اقتدار میں موجود صدر عمر البشیر اور کے حامیوں کو ہی اس سیاسی عمل سے فائدہ ہونے والا ہے۔" تاہم اس صورتحال کے بارے میں حکومت کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

ملک کی تین بڑی جماعتوں نے سیاسی مذاکرات سے الگ ہونے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان جماعتوں میں اسلام پسند رہنما حس الترابی کی پاپولر کانگریس پارٹی بھی شامل ہے۔

واضح رہے سوڈان میں پر تشدد واقعات پچھلے کئی برسوں سے جاری ہیں۔ حکومت ان مذاکرات کو امن بات چیت کے ساتھ منسلک کرنا چاہتی ہے۔