.

یمن پر قابض حوثیوں کوعالمی سفارتی تنہائی کا سامنا

جاپان اور ہالینڈ نے بھی صنعاء میں سفارت خانے بند کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حال ہی میں اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں کی بغاوت اور اقتدار پرقبضے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس ردعمل میں عالمی برادری کا حوثیوں کا سفارتی بائیکاٹ بھی شامل ہے۔ امریکا، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے صنعاء میں سفارتی سرگرمیاں بند کیے جانے کے بعد اب کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے سفارت خانے بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جاپان اور ہالینڈ بھی یمن میں اپنے سفارت خانے بند کر دیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہالینڈ کے وزیرخارجہ بیرٹ کونڈریس نے اپنے ایک بیان میں صنعاء میں سیکیورٹی کی مخدوش صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ یمن میں جاری کشیدگی کے باعث کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں حالات خراب ہوتے ہی ہم نے اضافی سفارتی عملے اور دیگر شہریوں کو وہاں سےواپس بلا لیا تھا۔

ادھر جاپان نے بھی صنعاء میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔ جاپانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سفارتی عملے کی واپسی اور سفارت خانے کی بندش کا فیصلہ صنعاء میں سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

قبل ازایں ترکی، اسپین اور متحدہ عرب امارات نے بھی صنعاء میں اپنے سفارت خانے بند کردیے تھے جبکہ امریکا اور سعودی عرب سمیت کئی دوسرے ممالک پہلے ہی صنعاء میں اپنی سفارتی سرگرمیاں محدود کر چکے ہیں۔

گذشتہ جمعہ کے روز سعودی عرب، اٹلی، جرمنی اور برطانیہ نے صنعاء میں اپنے سفارت خانے بند کر دیے تھے۔ سفارت خانوں کی بندش کا فیصلہ کرنے والے ممالک کا کہنا ہے کہ انہیں یمن میں حوثی عسکریت پسندوں کی بغاوت کے بعد اپنے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ یمن میں مضبوط حکومت کے قیام تک سفارتی سرگرمیاں بحال نہیں کی جا سکتی ہیں۔

برطانوی خاتون سفیر نے ’’العربیہ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمن کی معاشی ابتری کی بنیادی وجہ ملک میں جاری سیاسی بحران ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بار ہا یمن میں بدامنی کے خطرات پر انتباہ کیا۔ یمن میں پچھلے سال ستمبر میں حوثیوں کی مسلح بغاوت کے بعد ملک کی معیشت بری طرح زوال پذیر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 72 ملین آبادی کے ملک میں صرف 16 لاکھ افراد کو بنیادی سولتیں میسر ہیں دیگر آبادی نہایت کمسپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔