.

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیا کھویا، کیا پایا!

سعودی حکام کی لندن کو اپنے تجربات سے آگاہی بریفنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر داخلہ اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف اعلیٰ اختیاری وفد کے ہمراہ اپنا دورہ برطانیہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے ہیں۔

ان کا برطانیہ کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل رہا جس میں انہوں نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون،خاتون وزیر داخلہ ٹیریزا مائے اور وزیر دفاع مائیکل فالن سمیت کئی اہم حکومتی عہدیداروں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں سعودی عرب کے تجربات سے بھی آگاہ کیا۔

برطانوی حکام سے ملاقاتوں میں شہزادہ محمد بن نایف نے علاقائی اور عالمی امور، باہمی دلچسپی جیسے امور بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باہمی فوجی تعاون میں اضافے پر بھی بات چیت کی۔

برطانوی وزیر خارجہ فیلپ ھامونڈ سے ملاقات کے موقع پر سعودی وزیر صنعت و تجارت ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ،، وزیر خارجہ ڈاکٹر نزار بن عبید مدنی، وزیر اطلاعات ڈاکٹر عادل الطریفی اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالرحمان البنیان بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دہشت گردی کےخلاف دونوں ملکوں کی مشترکہ مساعی کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

شدت پسندی اور فکری اصلاح

سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف نے برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالن سے ملاقات میں دوطرفہ فوجی تعاون بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے برطانوی وزیر دفاع سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خود بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت نے انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیےجہاں ایک طرف حسب ضرورت طاقت استعمال کی وہیں انتہا پسندوں کی فکری اصلاح کرکے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کا پروگرام بھی متعارف کرایا تاکہ عوام الناس کی بڑی تعداد کو دہشت گردی کی طرف مائل ہونے سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب واحد ملک ہے جس نے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اصلاح پروگرام شروع کیا۔ یہ پروگرام نہایت موثر اور نتیجہ خیز رہا ہے جس میں شدت پسندوں کو قومی دھارے اور قانونی دائرے میں لانے کے لیے ان کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔

داعش، ایران کا جوہری پروگرام

سعودی وزیر داخلہ کے دورہ برطانیہ کے دوران شام اور عراق میں سرگرم سخت گیر گروپ دولت اسلامی’’داعش‘‘ اور ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کا معاملہ بھی سر فہرست رہا۔ وزیر داخلہ نے برطانوی حکام سے ملاقاتوں میں بتایا کہ ان کا ملک خطے میں دیرپا قیام امن کے لیے عالمی برادری سے مل کرکام کرتا رہے گا۔ انہوں نے داعش کے بڑھتے خطرات، ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام، یمن اور لیبیا میں امن واستحکام سمیت علاقائی مسائل پر تفصیل سے بات چیت کی۔

برطانوی شہریوں کی مدد

خیال رہے کہ برطانیہ کی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ عسکری میدان میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان محض رسمی طور پر نہیں کیا ہے بلکہ لندن حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی خدمات کا اچھی طرح ادراک ہے۔ اس کا اظہار برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اپنے ایک سابقہ بیان میں کرچکے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے سعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاض حکومت کی طرف سے بر وقت انٹیلی جنس معلومات فراہم کی جاتی رہیں جن کے نتیجے میں دہشت گردی کی کئی بڑی سازشیں ناکام بنائی گئیں۔ یوں سعودی عرب نے بالواسطہ طور پر ہزاروں برطانوی شہریوں کی جانیں بچائی ہیں۔

خیال رہے کہ وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف پچھلے ماہ جنوری میں نائب ولی عہد کا عہدہ سنھبالے کے بعد پہلی بار برطانیہ کے دورے پر گئے۔