اخوان کے مرشد عام کو چوتھی بار عمر قید کی سزاء

مقدمے میں شامل چار اخوانیوں کی سزائے موت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کی ایک فوج داری عدالت نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے زیر حراست مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع سمیت کئی اہم رہ نمائوں اور کارکنوں کو عمر قید کی سزائوں کا حکم دیا ہے جس کے بعد مرشد عام کو دی گئی عمر قید کی سزائوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

قاہرہ کی فوجی عدالت کے جج معتز خفاجی نے سنہ 2013ء میں مرشد عام کے دفتر سے متعلق ایک مقدمہ کی چند منٹ سماعت کی جس کے بعد مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع، ان کے نائب خیرت الشاطر، رشاد البیومی، سابق مرشد عام مہدی عاکف، پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر سعد الکتاتنی، محمد البلتاجی، عصٓام العریان، اسامہ یاسین سمیت سات دیگر رہنماوں کو عمر قید کی سزا سنائیں تاہم انہیں سزا کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے۔

عدالت کی جانب سے چار اخوانی کارکنوں محمد عبدالعظیم البشلاوی، مصطفیٰ عبدالعظیم فہمی، عاطف عبدالجلیل اور عبدالرحیم محمد کو اسی کیس میں سزائے موت سنائی گئی۔

خیال رہے کہ مصری فوجی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے زیرحراست اخوانی رہ نمائوں پر قتل، اقدام قتل، آتشیں اسلحہ رکھنے، شہریوں کو ہراساں کرنے اور ملک میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے سمیت کئی دیگر نوعیت کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز قاہرہ کی عدالت میں ملزمان کو بھی پیش کیا گیا تاہم دو مفرور ملزمان کو پھانسی اور تین کو ان کی عدم موجودگی میں عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع کو اس سے قبل تین مقدمات میں عمر قید کی سزا ہو چکی ہے جبکہ ایک مقدمہ میں انہیں سزائے موت بھی ہوئی تھی۔

بعد ازاں ایک دوسری عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے محمد بدیع اور اخوان کے پچیس دیگر رہ نمائوں کو توہین عدالت کے الزام میں الگ سے تین سال قید کی سزا کا حکم بھی دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں