.

یمن: سعودی سفارت کار القاعدہ کے چنگل سے بازیاب

عبداللہ الخالدی تین سال تک یرغمال رہنے کے بعد الریاض واپس پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں القاعدہ نے یرغمال بنائے گئے سعودی سفارت کار کو قریباً تین سال کے بعد رہا کردیا ہے اور وہ سوموار کو الریاض پہنچ گئے ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں یمن کے جنوبی شہر عدن میں سعودی قونصل خانے میں تعینات نائب قونصل عبداللہ الخالدی کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔انھیں 28 مارچ 2012ء کو عدن سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

وہ القاعدہ کی جانب سے ستمبر 2014ء میں جاری کردہ دو منٹ کی ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے۔اس میں ان کا سر ڈھانپا ہوا تھا اور انھوں نے لمبی ڈاڑھی رکھی ہوئی تھی۔انھوں نے ویڈیو میں سعودی حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے اغوا کاروں سے مذاکرات کرے۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے گذشتہ سال اپریل میں سعودی سفارت کار کو اغوا کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے الخالدی کو سعودی جیلوں میں قید القاعدہ سے وابستہ خواتین کی رہائی اور تاوان میں بھاری رقم کی وصولی کے لیے اغوا کیا تھا۔

سعودی نائب قونصل کی ایک ویڈیو 15 اپریل 2013ء کو یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔ انیس منٹ کی اس ویڈیو میں وہ کسی نامعلوم سے گفتگو کررہےتھے۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ ان کی رہائی کیسے ممکن ہوئی ہے۔