.

"ایران وسیع سلطنت اور بغداد اس کا دارالحکومت ہے"

پورا مشرق وسطیٰ ایران کا حصہ ہے: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے فروغ پذیر سیاسی اورعسکری اثر ونفوذ کو جہاں خطے کے ممالک نہایت تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں وہیں ایرانی حکام اس پر شاداں دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا اظہار حال ہی میں ایرانی صدر حسن روحانی کے مشیر علی یونسی نے یہ کہہ کر کیا کہ "ایران ایک عظیم الشان سلطنت بن چکا ہے اور اس سلطنت کا دارالحکومت بغداد ہے۔ بغداد ہی ماضی اور حال ہی میں ہماری تہذیب اور ثقافتی تشخص کی علامت ہے۔" ان کا اشارہ قبل از اسلام کی اس قدیم ایرانی شہنشاہیت کی جانب تھا جس میں عراق پر بھی ایران نے قبضہ کرر کھا تھا اور مدائن کو اس کے پایہ تخت کا درجہ حاصل تھا۔

ایران کی ایک غیر سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایسنا' کے مطابق مسٹرعلی یونسی نے "ایرانی تشخص" کے عنوان سے تہران میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اورعراق کو جغرافیائی طور پر تقسیم کرنا کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ ہماری تہذیب اور ثقافت، ماضی اور حال سب ایک ہیں۔ اسی تہذیبی رشتے نے ہمیں ایک دوسرے سے مربوط کررکھا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے۔ چاہے ہم ایک دوسرے سے لڑیں یا اکھٹے ہیں ہمارے اتحاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔"

ایرانی عہدیدار علی یونسی نے جو سابق صدر محمد خاتمی کے دور حکومت میں انٹیلی جنس وزیر بھی رہ چکے ہیں، خطے میں ایرانی کی بڑھتی مداخلت کی مخالفت کرنے والوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ "پورا مشرق وسطیٰ ایران کا حصہ ہے، ہم خطے کی تمام اقوام کا دفاع کریں گے، کیونکہ ہم اُنہیں ایران ہی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہم اسلامی انتہا پسندی، تکفیری، الحاد، نئے عثمانیوں، وہابیوں اور مغربی صہیونیوں سے بہ یک وقت مقابلہ کریں گے۔"

ایرانی صدر کے مشیر نے کہا کہ ان کا ملک عراقی حکومت کی مدد جاری رکھے گا تاہم انہوں نے ساتھ ہی ترکی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "ہمارے تاریخی مخالفین میں مشرقی رومیوں کی باقیات اور عثمانی ترک ہیں جو عراق کے ساتھ ایران کے تعلق پر کُڑھتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں ایک نئے اتحاد کی داغ بیل ڈالنے والا ہے۔ انہوں نے کہا "ہمیں اتحاد کے قیام کے لیے سرحدوں کو تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایران سے قربت رکھنے والی علاقائی قوتوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بھی تعلق مضبوط بنانا ہوگا، کیونکہ ہم سب کے مفادات ایک اور ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔"

علی یونسی کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کے ساتھ کوئی نئی جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے ہیں بلکہ ہم ایران کے عالمی سطح پر کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی عہدیدار کا یہ بیان سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل کے اس بیان کے دو روز بعد سامنے آیا ہے۔ اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ کاکہنا تھا کہ ایران عراق پر اپناتسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نےشمالی عراق کے شہر تکریت کی مثال پیش کی اور کہا کہ تکریت میں جاری فوجی آپریشن میں عراقی فوج کو ایرانی پاسداران انقلاب کی نجی ملیشیا اور جنرل قاسم سلیمانی کا بھی تعاون حاصل ہے۔