.

عدن میں جھڑپیں ،پانچ افراد ہلاک، پروازیں معطل

سابق صدر علی صالح اور موجودہ صدر منصورہادی کے حامیوں میں لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی شہر عدن میں متحارب فورسز کے درمیان جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے ہیں۔شہر کے بین الاقوامی ہوائی کے نزدیک لڑائی کے بعد تمام پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق عدن میں یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار سکیورٹی فورسز اور موجودہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے حامیوں کے درمیان جمعرات کو علی الصباح لڑائی شروع ہوئی تھی جس کے بعد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد ورفت روک دی گئی ہے اور ہوائی اڈے پر صبح سے آنے والے مسافروں کو واپس جانے کی ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔

قبل ازیں علی عبداللہ صالح کے حامی یمن کی اسپیشل فورسز کے کمانڈر عبدالحافظ الثقاف نے شہر میں مختلف شاہراہوں اور ہوائی اڈے کے نزدیک اپنے یونٹ تعینات کردیے تھے لیکن صدر عبد ربہ ہادی کی وفادار عوامی مزاحمتی کمیٹیوں نے اس پر احتجاج کیا تھا جس کے بعد ان کے درمیان شہر کے مختلف حصوں میں جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔

عبد ربہ منصور ہادی گذشتہ ماہ دارالحکومت صنعا سے فرار کے بعد عدن آگئے تھے اورانھوں نے اس کو ملک کا عارضی دارالحکومت قرار دے دیا تھا،اب وہ اس شہر ملک میں اپنی اتھارٹی قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ یمنی دارالحکومت پر حوثی باغیوں نے قبضہ کررکھا ہے اور ان کے خلاف مختلف گروپ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور وہ صدر ہادی کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

صنعا میں تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے اور بدھ کو موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے حوثی باغیوں کی انقلابی کمیٹی کے ایک رکن اور معروف صحافی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔حوثیوں نے عبدالکریم الخیوانی کے قتل کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ انھیں ان کے گھر کے نزدیک گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔وہ حوثی ملیشیا کے میڈیا کے شعبے سربراہ تھے۔

خیوانی یمن کے ایک معروف صحافی تھے اور انھیں سنہ 2009 میں صحافت میں انسانی حقوق کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔انھیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے دور حکومت میں متعدد مرتبہ جیل میں ڈالا گیا تھا،انھوں نے سنہ 2012ء کے اوائل میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں حوثیوں کی جانب سے قومی مذاکرات میں حصہ لیا تھا اور ان کے نتیجے ہی میں یمن کی مختلف جماعتوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت علی عبداللہ صالح فروری 2012ء میں اپنے خلاف ایک سال تک احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار سے سبکدوش ہوگئے تھے۔