یمن: دہشت گردی میں زخمیوں کا سعودی عرب میں علاج کرانے کی ہدایت
سعودی عرب کی حکومت نے یمن کے شہروں عدن اور صنعاء میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں زخمی شہریوں کا ریاض میں علاج کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ریاض وزارت خارجہ کے عہدیدار نے بتایا کہ شاہ سلمان کی ہدایت پر صنعاء مساجد میں دھماکوں کے زخمیوں اور اس سے پہلے عدن میں ہونے والے حملوں میں زخمی ہونے والے شہریوں کے علاج کے لیے طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عدن اور صنعاء میں گذشتہ روز ہونے والی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کے لیے طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدن میں صدارتی محل اور صنعاء کی دو مساجد میں بم دھماکوں کے زخمیوں کا سعودی عرب میں علاج کرائیں۔
سعودی حکومت کی جانب سے عدن اور صنعاء میں دہشت گردی کے سلسلہ وار واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پڑوسی ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں سعودی حکومت اور پوری قوم یمن کے ساتھ کھڑی ہے۔
خیال رہے کہ جمعہ کے روز یمن کے دارالحکومت صنعاء میں مساجد میں ہونے والے بم دھماکوں میں ڈیڑھ سو سےزائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مساجد میں دہشت گردی کے بدترین واقعات کی پوری دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے۔
-
یمن: مساجد پر خودکش بم حملے، 141 افراد ہلاک
داعش نے حوثیوں کی مساجد کو خون میں نہلانے کی ذمہ داری قبول کر لی
بين الاقوامى -
عدن میں جھڑپیں ،پانچ افراد ہلاک، پروازیں معطل
سابق صدر علی صالح اور موجودہ صدر منصورہادی کے حامیوں میں لڑائی
بين الاقوامى -
سویڈش وزیرخارجہ کو سعودی مخالف بیان پر تنقید کا سامنا
سویڈش وزیرخارجہ مرگوٹ وال اسٹروم کے سعودی عرب کے خلاف بیان کے بعد خلیجی عرب ...
بين الاقوامى