.

علی صالح کی وفادار فورسز کی عدن کی جانب پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل نے اطلاع دی ہے کہ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز جنوبی شہر عدن کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔

یمن کے دارالحکومت صنعا پر قابض حوثی شیعہ باغیوں نے حالیہ مہینوں کے دوران علی عبداللہ صالح کی وفاداروں فورسز کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا ہے اور وہ اب صدر عبد ربہ منصور ہادی کے تحت سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔

العربیہ نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سابق صدر اور حوثیوں کی فورسز عدن سے تیس کلومیٹر دور رہ گئی ہیں اور ان کی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ حوثی ملیشیا کی اتحادی ایک بریگیڈ نے شہری علاقوں پر گولہ باری کی ہے۔اس سے چند گھنٹے پہلے بھی انھوں نے الضالع کے علاقے میں بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق عدن کے شمال میں واقع شہر الضالع میں بمباری کے بعد مقامی لوگ وہاں سے اپنا گھربار چھوڑ کر جارہے ہیں۔الجلیلہ کے علاقے میں مقامی قبائلیوں اور حوثیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

قبل ازیں اتوار کو یمن کے جنوبی صوبے شبوۃ میں مقامی قبائلیوں نے حوثیوں اور علی صالح کے وفاداروں پر جوابی حملے کیے تھے اور انھوں نے حملہ آور پچاس جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔

اس دوران سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت صنعا اور شمالی شہروں میں حوثی باغیوں پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان حملوں میں صنعا اور صعدہ میں حوثی ملیشیا کے اسلحے کے متعدد ڈپوؤں کو تباہ کردیا گیا ہے۔