.

انٹرنیٹ صارف کا مذاق، نیتن یاہو کی پارٹی برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیاسی جماعت 'لیکود' نے یکم اپریل کو فیس بک پر یاہو کی طرف سے عرب ممبر پارلیمنٹ کو وزیر لگائے جانے کا جھوٹا اعلان کرنے والے شخص کے خلاف قانونی کارروائی دینے کی دھمکی دے دی ہے۔

یکم اپریل کو بنجمن نیتن یاہو کے آفیشل فیس بک پیج جیسے ہی ایک صفحے سے اعلان کیا گیا تھا کہ اسرائیل میں بسنے والے عرب شہریوں کے سیاسی اتحاد کے سربراہ ایمن عودہ کو ایک وزارت دی جارہی ہے۔

عبرانی زبان میں لکھے جانے والے بیان میں لکھا گیا تھا "میں جانتا ہوں کہ اس تعیناتی پر میری پارٹی اور میرے مستقبل کے اتحاد کی طرف سے شدید تنقید کی جائے گی مگر ہم پسند کریں یا نہ کریں۔ عرب اور یہودیوں کی قسمت میں اسی زمین پر ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہی لکھا ہے اور مجھے ہر کسی کے وزیراعظم کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔"

مگر یہ پوسٹ حقائق پر مبنی نہیں تھی اور نہ ہی نیتن یاہو کے اصلی فیس بک پیج سے شائع کی گئی تھی جس کے تقریبا 13 لاکھ فالوورز ہیں۔

ناخوش لیکود

مگر پارلیمنٹ کی 120 میں سے 30 سیٹیں رکھنے والی لیکود پارٹی کو یہ مذاق اچھا نہیں لگا تھا۔

لیکود کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے قانونی مشیر جعلسازی اور انٹرنیٹ پروزیر اعظم کی نقالی کے خاتمے اور اسکے خلاف کارروائی کے لئے فوری قانونی کارروائی کریں گے۔"