.

اسرائیلی تسلط کے خاتمے کا ٹائم ٹیبل چاہتے ہیں: فلسطینی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اسرائیلی تسلط کے خاتمے اور ایک فلسطینی ریاست کی تشکیل کے لئے کسی ڈیڈلائن کی قرار داد لانے کا سیاسی عزم رکھتی ہے یا نہیں۔

سفیر ریاض منصور نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی ٹائم ٹیبل کے تحت قرارداد لانے کا طریقہ خطے میں انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے سب سے کارگر اقدامات میں سے ایک ہوگا کیوںکہ انتہاپسند فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔

"اگر اس تنازعے کا کوئی صحیح حل نکل آجاتا ہے تو بہت کم عرصے میں آپ انتہاپسندوں سے ان کی بھرتی اور کارکردگی کا سب سے بڑا ذریعہ ان سے چھین لیں گے۔ اور اس سے مشرق وسطیٰ کے 70 فیصد مسائل حل ہوجائینگے۔

منصور کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں امریکا کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔

منصور کے مطابق فلسطینی ایک نئی قرارداد چاہتے ہیں جس میں ایک ڈیڈلائن اور بیت المقدس کو بطور دارالحکومت قرار دیتے ہوئے 1967ء کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کی شرائط طے کی جائیں اور فلسطینی مہاجرین کے لئے قابل عمل حل دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ایک بین الاقوامی کانفرنس اور مذاکرات چاہتے ہیں جن میں فریقین کے ساتھ ساتھ ویٹو کی طاقت رکھنے والے پانچ ممالک اور متعلقہ عرب پارٹیاں شامل ہوں۔