.

''ایرانی جہاز یمنی پانیوں میں داخل نہیں ہونے دیں گے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں حوثی مخالف فوجی اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں موجود رہنے کا حق حاصل ہے لیکن انھیں یمن کی علاقائی حدود میں پانیوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری بدھ کو سعودی دارالحکومت الریاض میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے ایران کی جانب سے آج خلیج عدن میں دو جنگی بحری جہاز بھیجنے کے فیصلے کے ردعمل میں یہ ریمارکس دیے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ یہ جنگی بحری جہاز مال بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے بھیج رہا ہے۔تاہم جنرل عسیری نے ''آپریشن فیصلہ کن طوفان'' سے متعلق روزانہ کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ فوجی اتحاد ایران کی جانب سے حوثیوں کو مسلح کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ طبی سامان اور ادویہ سے لدا ہوا ایک بحری جہاز عدن کی بندرگاہ پر لنگراندز ہوگیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یمن میں حوثی بغاوت کے خاتمے کی ضرورت ہے تاکہ وہ القاعدہ کے جنگجوؤں سے نبرد آزما ہوسکے۔

بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے منگل کو اپنی نیوز بریفنگ کے دوران ایران اور حزب اللہ پر حوثیوں کو عسکری تربیت دینے کا الزام عاید کیا تھا تاکہ وہ یمنیوں کو ''اذیت'' سے دوچار کرسکیں۔انھوں نے کہا کہ ''ہمارے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ ایران نے حوثی ملیشیا کو لڑاکا طیارے اڑانے کی تربیت دی تھی''۔دوسری جانب ایران حوثی ملیشیا کو فوجی امداد مہیا کرنے سے متعلق الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔