جکارتہ: اسلام پسند جماعتوں کا شراب پر پابندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اقوام عالم میں سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا کی دو سیاسی جماعتوں نے ملک میں شراب کی خرید وفروخت پر پابندی لگانے اور اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو دو سال تک کی قید کی سزا دینے کا بل پیش کردیا ہے۔

ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی ہے کہ اس بل کو پارلیمنٹ میں کتنی حمایت حاصل ہوگی مگر اس سے پہلے شراب پر پابندی کے لئے کئے جانے والے اقدامات مسلم مہینے رمضان کی آمد سے قبل مسلمان ووٹرز کو اپنی طرف کھینچنے کے طریقے سمجھے جاتے ہیں۔

انڈونیشی سیاسی جماعت کے ایک رکن محمد عروانی تھومافی کا کہنا تھا "اس بل کے تحت شراب پینے والے کسی بھی شخص کو منشیات فروشی کے جرم کی طرز پر ہی جیل میں ڈال دیا جائے گا۔"

اس بل میں ایک فیصد سے زیادہ الکحل رکھنے والے کسی بھی مشروب کی تیاری، فروخت، ترسیل اور استعمال پر پابندی لگا دی جائے گی۔

اس بل کے پشت پر کھڑی سیاسی جماعتیں اور سرکاری عہدیدار اس موقع پر کوئی بیان نہیں جاری کررہے ہیں۔

جکارتہ کے مقامی اخبار کے مطابق مجوزہ قانون میں کچھ پنج ستارہ ہوٹلوں اور بالی کے جزیرے پر سیاحوں کی سہولت کے لئے پابندی میں گنجائش چھوڑ دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں