جکارتہ: اسلام پسند جماعتوں کا شراب پر پابندی کا مطالبہ
اقوام عالم میں سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا کی دو سیاسی جماعتوں نے ملک میں شراب کی خرید وفروخت پر پابندی لگانے اور اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو دو سال تک کی قید کی سزا دینے کا بل پیش کردیا ہے۔
ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی ہے کہ اس بل کو پارلیمنٹ میں کتنی حمایت حاصل ہوگی مگر اس سے پہلے شراب پر پابندی کے لئے کئے جانے والے اقدامات مسلم مہینے رمضان کی آمد سے قبل مسلمان ووٹرز کو اپنی طرف کھینچنے کے طریقے سمجھے جاتے ہیں۔
انڈونیشی سیاسی جماعت کے ایک رکن محمد عروانی تھومافی کا کہنا تھا "اس بل کے تحت شراب پینے والے کسی بھی شخص کو منشیات فروشی کے جرم کی طرز پر ہی جیل میں ڈال دیا جائے گا۔"
اس بل میں ایک فیصد سے زیادہ الکحل رکھنے والے کسی بھی مشروب کی تیاری، فروخت، ترسیل اور استعمال پر پابندی لگا دی جائے گی۔
اس بل کے پشت پر کھڑی سیاسی جماعتیں اور سرکاری عہدیدار اس موقع پر کوئی بیان نہیں جاری کررہے ہیں۔
جکارتہ کے مقامی اخبار کے مطابق مجوزہ قانون میں کچھ پنج ستارہ ہوٹلوں اور بالی کے جزیرے پر سیاحوں کی سہولت کے لئے پابندی میں گنجائش چھوڑ دی جائے گی۔
-
کویت :رکن پارلیمان کو شراب سے متعلق بیان پر مقدمے کا سامنا
کویتی پارلیمان کے ایک آزاد رکن کو ملک میں شراب کی فروخت کو قانونی قرار دینے کی ...
بين الاقوامى -
ایردوآن یورپ کے لیے ایک سخت جان شخص ہے، روسی صدر
"مغرب روسی شراب کا جادوئی اثر کم نہیں کر سکتا"
بين الاقوامى -
داعش: عراق میں شراب نوشوں کے لیے مشکلات
سگریٹ نوشی پر بھی پابندی، سگریٹ اور شراب جلانے کی کارروائیاں
مشرق وسطی