.

پوپ آرمینیا میں ہلاکتوں کو نسل کشی قرار نہ دیں:ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس کے حالیہ بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ پہلی عالمی جنگ میں سلطنت عثمانیہ کی فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے مبینہ قتل عام کو نسل کشی قرار دینے کی دوبارہ غلطی نہ کریں۔

صدر ایردوآن نے ترک برآمد کنندگان کی اسمبلی کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''جب کبھی سیاست دان اور مذہبی عاملین تاریخ دان بننے کا فریضہ بھی سنبھال لیتے ہیں تو پھر مفروضے جنم لیتے ہیں اور حقائق سامنے نہیں آتے۔میں یہاں ایک مرتبہ پھر یہ کہنا چاہتاہوں کہ مؤرخین کا ایک مشترکہ کمیشن قائم کیا جائے اور ہم اپنے آرکائیوز کو کھولنے کے لیے تیار ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ میں پوپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں،وہ اس غلطی کو دُہرائیں نہیں اور میں ان کی مذمت کرتا ہوں۔انھوں نے کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پوپ فرانسیس نے گذشتہ اتوار کو اپنی ایک تقریر میں 1915 ء میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو بیسویں صدی کی پہلی نسل کشی قرار دیا تھا۔صدر ایردوآن نے پوپ کے سنہ 2014ء میں ترکی کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تب ویٹی کن کے رہ نما کو ایک ''مختلف سیاست دان'' سمجھے تھے۔

انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''میں نے ان کے لیے ایک مذہبی عامل کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔اب ان کے بیان سے ایک مذہبی عامل سے مختلف ذہنیت کی عکاسی ہوگئی ہے''۔

تاہم ترک صدر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ تاریخی واقعات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر من مانے مفہوم عطا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ان کو اپنے ملک اور قوم کے خلاف مہم کا حصہ بننے دیں گے۔

واضح رہے کہ پوپ فرانسیس نے ویٹی کن میں سینٹ پیٹر باسیلیکا میں اجتماع عام سے خطاب کے دوران آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کی ایک صدی پورے ہونے پر خلافت عثمانیہ کے خلاف بیان دیا تھا اور اس کی فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو بیسویں صدی کی پہلی نسل کشی قراردیا تھا۔اس تقریب میں آرمینیائی چرچ کے مذہبی قائدین بھی موجود تھے۔

درایں اثناء یورپی یونین نے ترکی اور آرمینیا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لائیں۔یادرہے کہ آرمینیا کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں ترک فوج کے ہاتھوں اس کے پندرہ لاکھ شہری مارے گئے تھے لیکن ترکی اس دعوے کو مسترد کرتا چلا آرہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران صرف تین سے پانچ لاکھ کے درمیان آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں اور اتنی ہی تعداد میں ترک بھی مارے گئے تھے۔میدان جنگ کے علاوہ قحط سالی کی وجہ سے بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔تاہم ترکی آرمینیا یا اس کے حامی ممالک کی جانب سے اس قتل عام کے لیے وضع کردہ نسل کشی کی اصطلاح کو مسترد کرتا چلا آرہا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ آرمینیا کے جنگجوٶں کے ہاتھوں کرد اور ترک شہری بھی مارے گئے تھے۔آرمینیاؤں کی ان ہلاکتوں کے مسئلے کو اہل مغرب وقفے وقفے سے ترکی پر دباٶ ڈالنے کے لیے اچھالتے رہتے ہیں۔ترکی اور آرمینیا نے دوطرفہ اختلافات کے خاتمے کے لیے 2009ء میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے اور 1915ء میں رونما ہوئے تشدد کے مبینہ واقعات کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن کے قیام سے اتفاق کیا تھا۔امن معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوگئے تھے اور انھوں نے دوطرفہ تجارت کے لیے اپنی سرحدیں کھول دی تھیں۔

فرانس نے 2001ء میں آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قراردے دیا تھا اور سابق فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے اپنے دور حکومت میں ترکی سے کہا تھا کہ وہ آرمینیا میں قتل عام کو نسل کشی تسلیم کرے، وگرنہ فرانس اس سے انکار کو ایک جرم قراردے دے گا۔نکولا سارکوزی بحیثیت صدر فرانس ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی سب سے زیادہ مخالفت کرتے رہے تھے۔