ایران میں سعودی سفارتی عملے کو دھمکیوں کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران کے دارالحکومت تہران میں سعودی عرب کے سفارتی عملے اور شمال مشرقی صوبے مشہد میں سعودی قونصل خانے کے سٹاف کو نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیاں دی گئی ہیں۔ دوسری جانب سعودی حکومت نے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے سفارتی عملے کا تحفظ یقینی بنائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں سعودی سفارتی عملے کو دی گئی دھمکیاں سنجیدہ نوعیت کی ہیں۔ یہ دھمکیاں ایک ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب حال ہی میں تہران اور ملک کے دوسرے شہروں میں سعودی قونصل خانوں کے باہر پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوچکے ہیں۔ یہ احتجاجی مظاہرے سرکاری سطح پرمنظم کیے گئے تھے۔

سعودی عرب کے اخبارات نے بھی ایران میں سعودی سفارتی عملے کو دی گئی دھمکیوں کی خبریں شائع کی ہیں۔ اخباری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے تہران سرکاری پر واضح کیا ہے کہ ایران میں موجود تمام سعودی شہریوں کی سلامتی کی ذمہ دار حکومت ہے۔ سعودی سفارتی عملے کو دی گئی دھمکیوں کی تحقیقات کرکے سفارتی عملے کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اخبار’’الوطن‘‘ نے سعودی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر اطلاعات اسامہ نقلی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’’جن ملکوں میں سعودی عرب کا سفارتی عملہ موجود ہے، ان کی حکومتیں بہ خوبی جانتی ہیں کہ سفارت کاروں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری وہاں کی حکومتوں پرعاید ہوتی ہے۔ سفارت کاری سے متعلق ویانا میں طے پائے عالمی معاہدے کے تحت ہرملک دوسرے ملک کے سفارت کاروں کو تحفظ دینے کا پابند ہے‘‘۔ ان کا اشارہ ایران کی جانب تھا جہاں مبینہ طورپر سفارت کاروں کو سنگین دھمکیوں کا سامنا ہے۔

ادھر سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جدہ ہوائی اڈے پر دو ایرانی شہریوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدہ ہوائی اڈے پرایرانی معتمرین پرتشدد کا معاملہ عدالت کو بھجوا دیا گیا ہے اور تشدد میں ملوث افراد کو بھی حراست میں لینے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں جدہ ہوائی اڈے پر متعدد ایرانی معتمرین اور مقامی شہریوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی جس کے بعد معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا تھا۔ پولیس نے ایرانی شہریوں کو ہراساں کرنے کے الزام میں متعدد مقامی شہریوں کو حراست میں لے لیا تھا۔

جدہ میں پیش آئے واقعے کے بعد مشہد شہر میں سعودی قونصلیٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین مشتعل دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے قونصل خانے پر دھاوا بولنے اور اس کی توڑپھوڑ کی بھی کی کوشش کی۔

آج ہفتے کو علی الصباح تہران میں سعودی سفارت خانے کے باہربھی بڑی تعداد بھی جمع ہوئی اور انہوں نے سعودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے سعودی سفارت خانہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایران میں سعودی عرب کےسفارت خانے اور قونصل خانوں پر مشتعل ھجوم کے حملوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے کئی واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔

سنہ 2011ء میں مشہد میں 700 مظاہرین پر مشتمل ایک ھجوم نے سعودی قونصل خانے پر یلغار کردی تھی۔ پچھلے ماہ[مارچ] میں بھی مشہد میں سعودی قونصل خانے پر مظاہرین نے حملے کی کوشش کی تھی۔

ایران دوسرے ممالک کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں پرحملوں کے حوالے سے سیاہ تاریخ رکھتا ہے۔ ایران میں مشتعل ھجوم کے ہاتھوں نہ صرف سعودی عرب کے سفارتی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے سفارتی عملے کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ایران میں سفارت خانوں پرحملوں کے پس پردہ حکومت کی شہ بتائی جاتی رہی ہے جو کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے وضع کردہ سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مبصرین کے خیال میں مشہد اور تہران میں سعودی سفارتی عملے کو دھمکیاں اور سفارتی مراکز پرحملے ایران کی سعودی عرب سے نفرت اوردشمنی کا مظہر ہے۔ پر تشدد مظاہروں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران حکومت سعودی سفارتی عملے کو نشانہ بنانے کے لیے سہولت کار کار کردار ادا کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں