.

یو اے ای، قطر کی جانب سے چار امدادی طیارے یمن روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی سربراہی میں یمن میں جاری فوجی آپریشن 'فیصلہ کن طوفان' کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد عسیری کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور قطر نے یمن میں انسانی بہبود کے لئے چار امدادی طیارے بھیجے ہیں۔

عسیری کا کہنا تھا کہ کھانے پینے کی چیزوں اور ضروریات زندگی سے بھرے ہوئے یہ جہاز پچھلے دو دنوں کے دوران جیبوتی میں اترے تھے اور اس کے بعد وہ عدن کے ساحلی شہروں عدن اور حدیدہ کے لئے روانہ ہوگئے۔

سعودی آپریشن کے ترجمان نے یہ بیان سعودی دارالحکومت ریاض میں صحافیوں کو آپریشن کی معمول کی بریفنگ کے دوران دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کی دوپہر سے لے کر رات دیر تک سعودی علاقے نجران کی سرحد پر مسلسل لڑائی جاری رہی۔

اس لڑائی کے دوران ایک سعودی فوجی شہید ہوگیا جس سے فیصلہ کن طوفان کے شروع ہونے سے لے کر اب تک شہید ہونے والے سعودی فوجیوں کی تعداد سات ہوگئی۔

عسیری کا کہنا تھا کہ سعودی سربراہی میں یمنی باغیوں کی سرکوبی کے لئے جاری آپریشن کے دوران 2000 فضائی حملے گئے ہیں۔ اس موقع پر عسیری نے جیبوتی کی جانب سے اپنی فضائی اور سمندری حدود کو استعمال کرنے کی اجازت دینے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

عسیری کا کہنا تھا کہ یمن میں امدادی کارروائیوں میں بہت پیش رفت دیکھنے کو آرہی ہے اور مزید امدادی سامان اگلے کئی دنوں میں یمنی بندرگاہوں پر پہنچا دیا جائیگا۔

عسیری نے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے مسلح گروپوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا "ہم عوامی کمیٹیوں اور قبائلیوں سے رابطے میں ہیں تاکہ امداد یمنی عوام تک پہنچ سکے۔"

عسیری کا کہنا تھا "صدر ہادی کے اقتدار کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ملیشیائوں نے یمن اور سعودی عرب کی بارڈر کراسنگز پر ناکے لگا رکھے ہیں۔ انہوں نے قانونی حکومت کے حامیوں کو گرفتار کیا ہوا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق لحج میں رضاکار امدادی کارکنوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ ریڈ کراس کے عملے کو ہراساں کیا جارہا ہے۔"