حوثی پہلے یو این قرارداد پر عمل کریں: جی سی سی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

"یمن میں جنگ بندی کے لئے ضروری ہے کہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والے حوثی باغی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کا احترام کریں جس میں ان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اقتدار پر غاصبانہ قبضہ ختم کریں۔"

اس امر کا اظہار خلیج تعاون کونسل 'جی سی سی' کے رکن ممالک نے نیویارک میں ایک اجلاس کے دوران کیا۔ اس اجلاس میں جی سی سی کے رکن ممالک کے سفیروں نے عالمی ادارے کے جنرل سیکرٹری بین کی مون کے ساتھ چالیس منٹ تک ملاقات کی اور یمن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ گذشتہ ہفتے یو این جنرل سیکرٹری کے خصوصی ایلچی برائے یمن جمال بن عمر کے استعفی کے بعد پیدا ہونے والے صورتحال بھی اجلاس میں زیر بحث آئی۔

بین کی مون نے جمعہ کے روز یمن میں 'فوری فائر بندی' پر زور دیا تھا، اسی تناظر میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب ملکوں کی طیارے 26 مارچ سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے کر رہے ہیں۔

یو این میں سعودی عرب کے سفیر عبداللہ المعلمی نے اجلاس کے اختتام پر ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل فوجی کارروائیوں کا جلد خاتمہ چاہتا ہے، ہم سب یہی چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے خاتمے کی کچھ شرائط ہیں اور انہیں گذشتہ ہفتے یو این کے پلیٹ فارم سے منظور کی جانے والی قرارداد میں سمو دیا گیا ہے۔

مسٹر المعلمی کا مزید کہنا تھا کہ "بین کی مون اور ہم سب یہی سمجھتے ہیں کہ اس قرارداد پر مکمل عمل ہونا چاہیے۔"

منگل کو یو این میں منظور کی جانے والی قرارداد میں حوثیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں سے باہر نکل جائیں جن پر زبردستی اسلحہ کے زور پر قبضہ جما رکھا ہے۔ ان پر متعدد عالمی پابندیاں عاید ہیں جن میں اسلحہ کی فراہمی بھی شامل ہے۔

قرارداد میں تنازع کے تمام فریقوں کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا کہا گیا ہے تاکہ فوری فائر بندی ہو سکے۔ قرارداد میں اتحادی فوج سے اس تمام صورتحال میں فضائی حملے روکنے کی بابت کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب سعودی سفیر نے یمن کے لئے یو این سیکرٹری جنرل کے ایلچی کے تقرر سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ اس بات کا جائزہ ہم اپنے اپنے دارلحکومتوں میں لے رہے ہیں، جی سی سی اس کا جواب 'بہت جلد' دینے والی ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک یو این اہلکار نے بتایا کہ سیکرٹری جنرل نے اجلاس میں موریتانیہ سے تعلق رکھنے والے سفارتکار اسماعیل ولد الشیخ احمد کا نام پیش کیا تھا، جس پر خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس نام کو اپنی اپنی حکومتوں کے سامنے رکھیں گے۔ سفارتکاروں کے مطابق یمن کے بارے میں یو این کے نئے ایلچی کا تقرر اختتام ہفتہ ہو جائے گا۔

اسماعیل ولد الشیخ ان دنوں ایبولا وائرس خاتمے کے لئے عالمی ادارے کی خصوصی مہم کے نگران کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں