حزب اللہ کا شامی سرحد پر القاعدہ کے جنگجوؤں پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں نے شام کے سرحدی علاقے میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسرے مزاحمت کار گروپوں کے ایک اجتماع پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ان کے تین جنگجو مارے گئے ہیں۔

حزب اللہ کے زیر انتظام چلنے والے المنار ٹی وی نے اس حملے اور اس میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ مرنے والوں میں النصرۃ محاذ کا ایک مقامی رہ نما بھی شامل ہے لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔البتہ اس نے صرف یہ کہا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے یہ کارروائی سرحد کے ساتھ واقع دشوار گذار پہاڑی علاقے میں کی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے منگل کو شامی علاقے میں القاعدہ سے وابستہ مزاحمت کاروں کے خلاف حملے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے اس کی تاریخ نہیں بتائی تھی۔تاہم مقامی میڈیا اور شامی حزب اختلاف نے یہ قیاس آرائی کی تھی کہ حزب اللہ کے جنگجو شام کے پہاڑی علاقے قلمون میں جلد کارروائی کا آغاز کرسکتے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ بدھ کو اسی علاقے میں حزب اللہ نے حملہ کیا ہے۔لبنانی شیعہ ملیشیا کی منگل کو بھی مختلف سرحدی علاقوں میں النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

لبنانی حکام قبل ازیں حزب اللہ کو خبردار کرچکے ہیں کہ وہ سرحد پار حملوں سے گریز کرے کیونکہ اس سے شام میں جاری خانہ جنگی کے لبنان میں مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ملک ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

حزب اللہ ماضی میں ان انتباہوں کو نظرانداز کرتی چلی آرہی ہے اور اس کے سیکڑوں جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔حزب اللہ سمیت لبنان کے اہل تشیع اور علوی شامی صدر کی حمایت کررہے ہیں جبکہ اہل سنت باغی جنگجو گروپوں کے حامی ہیں اور ان کے درمیان اس بنیاد پر گذشتہ چار سال کے دوران متعدد مرتبہ خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں