.

انڈونیشیا، ملائشیا سمندری محصورین کی عارضی مدد کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا اور انڈونیشیا روہنگیا سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کی کشتیوں کو گذشتہ دنوں کی طرح ساحلی علاقوں سے واپس نہیں موڑے گا۔ تینوں ملک اپنی سمندری حدود میں موجود تارکین وطن کو عارضی پناہ دینے پر رضامندی ہو گئے ہیں۔

اس امر کا اعلان ملائیشین وزیرِ خارجہ انیفا امان نے اپنے تھائی اور انڈونیشیئن ہم منصب سے بدھ کے روز ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انھوں نے کہا کہ’ان لوگوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انھیں جس قسم کے حالات کا سامنا ہے اس میں ہم انھیں اپنے ساحلی علاقوں میں رکھنے کو تیار ہیں۔

مسٹر امان نے یہ بھی کہا کہ وہ سرگرمی کے ساتھ تارکین وطن کی تلاش نہیں کریں گے اور اگر وہ ان کے ساحل پر اترے تو انھیں اس شرط پر عارضی پناہ دیں گے کہ بین الاقوامی برادری ایک سال کے اندر ان کی آباد کاری یا واپسی میں تعاون کرے گی۔

بتایا گیا ہے کہ تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد یہ اطلاع موصول ہوئی کہ انڈونیشیا کے ساحلی علاقے میں موجود ماہی گیروں نے مزید350 تارکین وطن کی جان بچائی ہے۔

مدد حاصل کرنے والے ایک تارک وطن عبدالحق نے خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا کہ وہ چار مہینوں سے سمندر میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشتی کا انجن خراب ہو گیا تھا اور کپتان بھاگ گیا تھا۔

خیال رہے کہ تینوں ممالک میانمار میں ظلم و ستم سے بچنے کے لیے ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں اور بہتر معاش کی تلاش میں ملک چھوڑنے والے ان سینکڑوں بنگالیوں کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں جو کھلے سمندر میں کشتیوں میں محصور ہیں۔

اس سے قبل بدھ کی صبح انڈونیشیا کے صوبے آچے کی مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ گذشتہ شب ماہی گیروں نے صوبے کے مشرقی علاقے میں 102 تارکینِ وطن کو زندہ بچایا۔ جبکہ صبح سویرے 272 افراد کو بدھ کی صبح ساحل پر لایا گیا۔
خیال رہے کہ میانمار [برما] پر شدید دباؤ ہے کہ وہ ملک چھوڑنے والوں کو روکے تاہم میانمار اس حوالے سے مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہا اور اس نے خود پر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میانمار کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ’جو کوئی بھی سمندر میں مصیبت میں گرفتار ہے اسے انسانی بنیادوں پر مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

خیال رہے کہ ملائیشیا پہلے ہی 45 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دیے ہوئے ہے تاہم اب اس نے مزید تارکینِ وطن کو پناہ دینے سے انکار کیا ہے۔

تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کہتے ہیں کہ وہ سمندر میں محصور تارکینِ وطن کی مدد تو کریں گے تاہم وہ ان کے لیے اپنی سرحدیں نہیں کھول سکتے۔

پناہ گزینوں کے مسئلے پر تھائی لینڈ میں 29 مئی کو 15 ممالک کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے تاہم میانمار کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر ژو ہتائے کا کہنا ہے کہ اگر دعوت نامے میں ’روہنگیا‘ کا استعمال کیا گیا تو ان کا ملک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ ان کا ملک روہنگیا کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔