جنیوا مذاکرات سے قبل حوثیوں کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے: یمنی حکومت

مذاکرات یمن میں سیاسی عمل کی بحالی کا نقطہ آغاز ثابت ہوں گے: بین کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کی جانب سے جنیوا میں یمن کے مسئلے پر مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے مگرساتھ ہی کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں اسی صورت میں شرکت کرے گی بشرطیکہ حوثی باغی تمام شہروں اور اداروں پر قبضہ ختم کردیں۔ اگر حوثی قبضہ ختم نہیں کرتے تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربہ منصورھادی کی حکومت جنیوا مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی وزیرخارجہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ "اگر یمن میں حوثی پسپا نہیں ہوتے تو جنیوا مذاکرات میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہم اس صورت میں جنیوا مذاکرات میں شرکت کرسکتے ہیں بشرطیکہ حوثی شہروں کا قبضہ چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں۔"

ایک سوال کے جواب میں ریاض یاسین کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کو تاحال باضابطہ طور پر جنیوا مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ ہمیں دعوت بھی دی گئی تب بھی ہم صرف اسی شرط پر مذاکرات میں شریک ہوں گے کہ پہلے یمن میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کو اعتماد سازی کے لیے نافذ العمل کیا جائے۔

خیال ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 میں حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی کی پابندی اور ان کے یمنی شہروں پر قبضے کا غیرقانونی قرار دے کر اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ ریاض یاسین کا کہنا تھا کہ ہم سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد چاہیں گے۔ حوثیوں کو عدن اور کم سے کم تعز سے نکلنا ہوگا۔

ادھریمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کا کہنا ہے کہ یمن کے بحران کے حل کے لیے مشاورتی مساعی تیز کردی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی قوم کے لیے وقت بہت کم ہے۔ اس لیے ہم بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے دن رات صلاح مشورہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنیوا مذاکرات میں شام کے تمام نمائندہ دھڑوں کو شریک ہونا چاہی۔ انہوں نے وزیر خارجہ ریاس یاسین کی جانب سے اقوام متحدہ کی قرارداد کو نافذ العمل کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد پرعمل درآمد سے یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اقوام متحدہ کے سفیرکا کہنا تھا کہ 28 مئی کو جنیوا میں یمن سے متعلق بلائے گئے اجلاس میں یمن کی بیشتر سیاسی قوتیں شرکت کریں گی۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ تین اہم نکات پرتوجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ یمن میں امن وامان کے لیے خلیجی ممالک کے پیش کردہ سیاسی فارمولے پرغور، اس پرعمل درآمد، قومی سطح کے مذاکرات اور یمن سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل درآمد شامل ہوگا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے بدھ کے روز جنیوا میں یمن سے متعلق اہم اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اجلاس 28 مئی کو ہوگا جس میں یمن میں پرامن انتقال اقتدار کےفارمولے پرغور کیا جائے گا۔ یواین سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنیوا مذاکرات یمن میں سیاسی بحران کے حل اور سیاسی عمل کی بحالی میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا ان مذاکرات میں یمن کے حوثیوں کوشرکت کی دعوت دی جائے گی یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں