.

افغانستان : طالبان کے حملوں میں 26 سکیورٹی اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے جنوبی علاقوں میں طالبان مزاحمت کاروں کے مختلف حملوں میں فوج اور پولیس کے چھبیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

طالبان نے افغان فورسز کے خلاف اپنی نئی گرمائی جنگی مہم کے دوران حملے تیز کردیے ہیں اور وہ افغان حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کے باوجود سکیورٹی فورسزپر تباہ کن حملے کررہے ہیں۔

طالبان جنگجوؤں نے جنوبی صوبہ ہلمند کے ضلع نوزاد میں پولیس کی متعدد چوکیوں کو سوموار کی رات اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔صوبائی کونسل کے سربراہ کریم عطل نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ نوزاد میں طالبان کے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے سولہ اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

ہمسایہ صوبے قندھار میں طالبان نے اساتذہ کے ایک تربیتی اسکول کے ہاسٹل پر دھاوا بول دیا جس کے بعد ان کی افغان فورسز کے ساتھ لڑائی چھڑ گئی اور یہ سولہ گھنٹے تک جاری رہی ہے۔

قندھار پولیس کے ترجمان ضیا درانی نے کہا ہے کہ پولیس نے ہاسٹل کے مکینوں کو وہاں سے بہ حفاظت نکال لیا تھا اور لڑائی کے دوران ایک خاتون ہلاک اور چھے پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

جنوب مشرقی صوبے پکتیکا کے ضلع وضع خواہ میں طالبان جنگجوؤں نے ایک اور حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ پولیس اہلکار ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبے کے نائب گورنر عطاء اللہ فاضلی نے بتایا ہے کہ ''طالبان کے ایک بڑے گروپ نے پولیس کی چوکی پر حملہ کیا تھا۔پولیس اہلکاروں نے بہادری سے ان کا مقابلہ کیا لیکن جنگجوؤں نے ان پر قابو پا لیا ہے''۔صوبائی کونسل کے نائب سربراہ نعمت اللہ بابری کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں نے پولیس کی چیک پوسٹ کو نذرآتش کردیا ہے۔

ادھر صوبہ وردک کے دارالحکومت میدان شہر میں تین خودکش بمباروں نے عدالتی کمپلیکس پر حملہ کیا ہے اور بم دھماکوں میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔ صوبائی پولیس کے سربراہ خلیل اندرابی کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اپیل عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ان میں سے ایک نے پہلی چیک پوسٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔دوسرے خودکش بمباروں نے پھر عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش لیکن انھیں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

طالبان نے ان تمام حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔انھوں نے اپریل کے آخر میں ''عزم'' کے نام سے موسم بہار اور گرما کے نئے حملوں کا آغاز کیا تھا۔طالبان کے حالیہ حملوں کے پیش نظر یہ کہا جارہا ہے کہ اس موسم گرما میں وہ ملک بھر میں اپنے تباہ کن حملوں سے خون کی ندیاں بہادیں گے کیونکہ افغان فورسز کو امریکی فوج کی مدد حاصل نہیں ہے اور وہ تن تنہا ہی جنگجوؤں کا مقابلہ کررہے ہیں۔