.

مصر میں اخوان کے مسئلے پر امریکی سفیر کی طلبی

اخوان المسلمون کی شخصیات کے واشنگٹن کے دورے پر ناپسندیدگی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے قاہرہ میں متعیّن امریکی سفیر کو طلب کرکے ان سے اخوان المسلمون کی شخصیات کی ایک نجی کانفرنس میں شرکت کے لیے واشنگٹن آمد پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

ایک امریکی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ امریکی حکام اخوان المسلمون کی شخصیات سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں حالانکہ قبل ازیں جنوری میں امریکی حکام نے دورے پر آنے والی اخوان کی شخصیات سے ملاقات کی تھی۔

اس ذریعے نے یہ نہیں بتایا کہ امریکی سفیر اسٹیفن بی کرافٹ کو مصری حکومت نے کب طلب کیا تھا۔تاہم ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ انھیں حالیہ دنوں ہی میں طلب کیا گیا ہے اور مصر یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ وہ اخوان المسلمون کے ساتھ امریکا کی معاملہ کاری سے خوش نہیں ہے۔

تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جیف راتھکے نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی وضاحت نہیں کی کہ آیا امریکی حکام واشنگٹن کے دورے پر آنے والی اخوان المسلمون کی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''مصر کے مختلف سیاسی دھڑوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے روابط سے متعلق امریکی پالیسی جاری رہے گی''۔واضح رہے کہ امریکا متردد انداز میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے معاملہ کرتا چلا آرہا ہے اور اس نے مصر کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور سکیورٹی فورسز کے اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن کی بھی مذمت کی تھی۔

عبدالفتاح السیسی کی حکومت نے اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے جبکہ اخوان کا کہنا ہے کہ وہ ایک پُرامن جماعت ہے۔مصری حکومت اس جماعت کی تمام اعلیٰ قیادت سمیت ہزاروں کارکنان کو گرفتار کر کے پس دیوار زنداں کردیا ہے اور اب ان کے خلاف مختلف الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔اخوان کے مرشد عام محمد بدیع اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی سمیت سرکردہ شخصیات کو مصری عدالتوں نے پھانسی یا پھر لمبی مدت کی قید کی سزائیں سنائی ہیں۔