"ایران، حزب اللہ کے نمائندہ جنیوا اجلاس میں شریک نہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ یمن کے بحران کے حل کے سلسلے میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں ایران اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہو گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذریعے سے اطلاع ملی ہے کہ اقوام متحدہ نے یمن کے حوثی باغیوں پر واضح کیا ہے کہ ان کے مطالبے کے مطابق جن 41 شخصیات کی جنیوا مذاکرات میں شرکت کی فہرست جاری کی گئی تھی اس پرعمل درآمد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جنیوا مذاکرات میں ایران اور حزب اللہ کو شریک نہیں کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہفتے کی شام یمن سے جنیوا روانہ ہونے والے ہوائی جہازمیں حوثیوں کے سوا اور کوئی اہم شخصیت سوار نہیں تھی۔ جنیوا میں آج سوموار کے روز اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونے والے امن مذاکرات میں یمن سے حوثی باغی اور سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صنعاء سے اقوام متحدہ کا خصوصی طیارہ کل سات شخصیات کو لے کر جنیوا روانہ ہوا ہے جن میں چار کا تعلق حوثی گروپ سے ہے جبکہ تین سابق صدر علی صالح کے گروپ سے ہیں۔

اس سے قبل حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کی جانب سے جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے اکتالیس اہم شخصیات کی فہرست جاری کی تھی جن میں حزب اللہ اور ایرانی بھی شامل کیے گئے تھے تاہم اقوام متحدہ نے واضح کر دیا تھا کہ وہ مذاکرات میں ایران اور حزب اللہ کو شامل نہیں کریں گے۔ یوں عبدالملک الحوثی کی فہرست میں سے کسی کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے اپنی مرضی کے سات افراد کا چنائو کیا ہے جنہیں حوثیوں اور علی صالح کی نمائندگی کے لیے جنیوا لے جایا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے غیریمنی مشیروں کو جنیوا مذاکرات میں اپنے نمائندوں کے طورپر شریک کرنے کا مطالبہ کیا تھا جن میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے لیڈر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں