برطانوی مسلمان انتہاپسندی کا مزید مقابلہ کریں: کیمرون

'کچھ مسلم عناصر انتہاپسندی کو نظرانداز کرتے ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے مسلمان برادریوں اور خاندانوں پر زور دیا ہے کہ وہ انتہاپسندی کے مقابلے میں مزید خدمات دیں اور خبردار کیا کہ کچھ مسلم عناصر شدت پسند نظریات کی خاموشی سے حمایت کرنے کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدت پسندی کو پروان چڑھا رہے ہیں۔

کیمرون نے اسی ہفتے سامنے آنے والے دو مختلف کیسوں کا حوالہ دیا جس میں ایک 17 سالہ نوجوان نے خود کو عراق میں دھماکے سے اڑا لیا اور اس کے علاوہ تین برطانوی بہنوں کا حوالہ دیا جنہوں نے اپنے شوہروں کو چھوڑ کر اپنے نو بچوں سمیت شام کا رخ کرلیا۔

برطانوی وزیراعظ٘م نے بریٹسلاوا میں ایک سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ عقائد رکھتے ہیں کہ جمہوریت غلط ہے، خواتین کمتر ہیں اور مذہبی احکامات آئین سے افضل ہیں وہ اسلامی شدت پسندوں کے نظریات رکھتے ہیں۔

کیمرون کا کہنا تھا" کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہ ان میں سے کچھ نظریات میں یقین رکھتے ہیں مگر تشدد کی ترغیب نہیں دیتے ہیں اس کے نتیجے میں شدت پسندوں کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تم بھی ہمارے ساتھی ہو۔"

کیمرون نے خبردار کیا کہ اگر ایسے عقائد کو انٹرنیٹ پر یا مقامی برادری میں خاموشی سے برداشت کیا جاتا رہا تو کوئی بھی لڑکا یا لڑکی برطانوی شہری سے داعش کے جنگجو یا جنگجو کی بیوی بننے میں مشکل محسوس نہیں کریں گے۔"

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ اگرچہ شدت پسندی کا مقابلہ کرنے میں حکومت کو کردار ادا کرنا ہوتا ہے مگر مقامی کمیونیٹیز اور خاندانوں کا بھی اس میں اہم کردار ہے۔ کیمرون کا کہنا تھا "ہمیں سب کے کردار کے حوالے سے آزاد بحث کرنا ہوگی۔"

کیمرون کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم کونسل آف برطانیہ کا کہنا تھا کہ ایسا کہنا غلط ہے کہ مسلم کمیونیٹیز نوجوانوں کو انتہاپسندی کی طرف لے کر جارہی ہیں۔

مسلم کونسل کے سیکریٹری جنرل شجاع شفی کا کہنا تھا "یہ تجویز کیا جارہا ہےکہ مسلمان زیادہ کردار ادا نہیں کررہے ہیں اور کسی طرح سے انتہاپسندی کو نظرانداز کررہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اس بات کا واضح ثبوت پیش کیا جائے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں