.

داعش نے شامی آبزرویٹری کی سائٹ ہیک کر لی

تنظیم کے سربراہ کی مقتول یرغمالیوں کے لباس میں تصویر پوسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی ایک شامی آبزرویٹری کی ویب سائٹ بظاہر دولت اسلامیہ 'داعش' کے ہم خیال ہیکروں بدھ کے روز ہیک کر لی۔

انتہا پسند ویب سائٹس پر نظر رکھنے والے ادارے 'سائٹ' کے مطابق ہیکنگ کے بعد 'خلافت الیکڑانک آرمی' کے ہیکروں نے کسی نامعلوم یرغمالی کی تصویر پر آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا سر فوٹو شاپ کے ذریعے لگا کر بنائی گئی تصویر کو اپنے ہیکنگ پیغام کے ساتھ اپ لوڈ کیا ہے۔ رامی عبدالرحمان کو نارنجی رنگ کا لباس پہنے ایک یرغمالی کے روپ میں دکھایا گیا ہے جس کا سرقلم کرنے کے لئے قریب ہی نقاب پوش جنگجو ہاتھ میں چھری تھامے دیکھا جا سکتا ہے۔

شامی آبزرویٹری کا مرکزی دفتر لندن میں ہے اور گذشتہ کئی برسوں سے شام کے اندر بشار الاسد کی فوج اور انتہا پسند جنگجووں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ کرنے میں مصروف ہے۔

داعش نے شام کے شمال اور مشرق میں بڑے علاقے اپنے زیر نگیں کئے ہیں۔ یہی تنظیم نارنجی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے یرغمالیوں کے سرقلم کرنے کی ویڈیوز بھی مشتہر کرنے کی سزا وار ہے۔ یرغمالیوں میں صحافیوں اور امدادی کارکنوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

عبدالرحمان نے فون پر 'اپنی سائٹ ہیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا کام کرنے والوں کے لئے مشکلات نئی بات ہیں تاہم داعش کی حالیہ دھمکی انتہائی خطرناک ہے۔"

آبزرویٹری نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کی ویب سائٹ آٹھ جولائی بروز بدھ خلاف الیکٹرانک آرمی کے ہیکروں نے آف لائن کر دی۔ ہیکروں نے سائٹ پر موجود مواد کو نقصان پہنچایا۔"

بیان کے مطابق آبزرویٹری کو بشار الاسد، اس کے ہمنوا عرب حامیوں، داعش اور ان کے حواریوں نے ہمیشہ دھمکایا ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنی جدوجہد کی راہ نہیں چھوڑیں گے۔ ہم آزادی، جمہوری اور عدل و مساوات پر قائم ریاست کے لئے اپنی کوششیں کرتے رہیں گے۔

عبدالرحمان الرامی کا مزید کہنا تھا کہ شامی حکومت اور اس کے مشتدد حامیوں نے ہمیں اور ہمارے کارکنوں کو قتل کی دھمکیاں دیں، تاہم ایک ایڈوانس درجے کی الیکڑانک حملے کی مثال پہلے نہیں ملتی۔