لاپتا ترک فوجی داعش کے زیرانتظام اسپتال میں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے گذشتہ ہفتے شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں لاپتا ہونے والا ایک فوجی داعش کے زیر انتظام ایک اسپتال میں زیر علاج ہے اور داعش کے جنگجوؤں کے زیر حراست ہے۔

داعش کا ترکی کے ساتھ واقع شام کے سرحدی علاقے پر کنٹرول ہے۔ترک روزنامے حریت نے اپنی ہفتے کی اشاعت میں اس ترک فوجی کے داعش کے عمل داری والے علاقے میں موجود ہونے کی اطلاع دی ہے۔

اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ ترکی کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ترکی کے سرحدی قصبے کیلیس اور شامی علاقے کے نزدیک گذشتہ منگل کے روز داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک فوجی ہلاک ہوگیا تھا اور ایک لاپتا ہوگیا تھا۔

روزنامہ حریت نے انٹیلی جنس رپورٹس اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ فوجی جھڑپ کے دوران زخمی ہوگیا تھا اور اس کے پاؤں میں زخم آیا تھا۔ داعش کے جنگجو اس کو پکڑنے کے بعد شام کے شمالی شہر حلب کے نزدیک واقع ایک اسپتال میں لے گئے تھے۔ ترک حکام نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے جولائی میں اپنے سرحدی قصبے سوروچ میں ایک خود کش بم دھماکے کے بعد شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کیے تھے اور امریکا کو داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ داعش نے گذشتہ ماہ ایک ویڈیو جاری کی تھی۔اس میں انھوں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر باغی ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور ترکوں پر زوردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں