'بشار الاسد کو عبوری دور کے لیے قبول کیا جاسکتا ہے'
ایران اور روس شام کا بحران حل کرسکتے ہیں: برطانوی وزیرخارجہ
برطانوی وزیرخارجہ فیلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ #شام میں جاری بحران کے حل کے لیے عبوری دور کے ابتدائی مرحلے میں #بشار_الاسد کا سیاسی کردار قبول کیا جاسکتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزیرخارجہ نے پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی نگران کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بشار الاسد کو عبوری دور میں قبول کر کے شام کا بحران حل کیا جاسکتا ہے تو ہمیں پہلے ہی روز سے بشار الاسد کو نکال باہر کرنے کے مطالبے سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔
ان کا اشارہ روسی حکام کے اس بیان کی جانب تھا جس میں کہا گیا ہے کہ بشار الاسد ملک میں قبل از وقت صدارتی انتخابات منعقد کرانے اور اپوزیشن کو اقتدار میں شریک کرنے پر آمادہ ہیں۔
برطانوی وزیرخارجہ نے کہا کہ بشار الاسد کو شام کا صدر قبول کرنے کی تجویز قابل قبول نہیں ہے کیونکہ عالمی برادری ایک ایسے شخص کو ملک کا صدر قبول نہیں کرے گی جس کے ہاتھوں پر ہزاروں نے بے گناہ شہریوں کا خون لگا ہو۔
انہوں نے بشار الاسد کے حامی ملکوں بالخصوص #ایران اور #روس پر زور دیا کہ وہ صدر اسد پر ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے دبائو ڈالیں۔ مسٹر ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ "میرا خیال ہے کہ روس اور ایران دمشق رجیم پر اثرا انداز ہوکر شام کی صورت حال کو بدل سکتے ہیں"۔
دوسری جانب برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیرخارجہ کے بیان کا مقصد #لندن کی شام کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی نہیں ہے۔ #برطانیہ اب بھی یہی چاہتا ہے کہ شام کے مستقبل میں اب بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔
-
برطانیہ کا شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں پر غور
برطانیہ شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) کے خلاف امریکا کی قیادت ...
بين الاقوامى -
برطانوی مسلمان انتہاپسندی کا مزید مقابلہ کریں: کیمرون
'کچھ مسلم عناصر انتہاپسندی کو نظرانداز کرتے ہیں'
بين الاقوامى -
سابق برطانوی میرین شام میں لڑتے ہوئے ہلاک
برطانیہ کی شاہی بحریہ کا ایک سابق میرین شام میں کرد جنگجوؤں کی جانب سے دولت اسلامی ...
بين الاقوامى