منیٰ میں بھگدڑ سے شہداء کی تعداد 769 ہوگئی

مکہ مکرمہ کے مختلف اسپتالوں میں زخمی ہونے والے 934 حجاج زیرِعلاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مکہ مکرمہ کی وادیِ منیٰ میں جمعرات کے روز شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ کے نتیجے میں شہید ہونے والے حجاج کی تعداد سات سو انہتر ہوگئی ہے۔

سعودی عرب کے وزیرصحت خالد الفالح نے ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ''مکہ مکرمہ میں اسپتالوں میں زیرعلاج مزید باون حجاج اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے ہیں''۔انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت مختلف اسپتالوں میں نو سو چونتیس زخمی زیر علاج ہیں''۔دو روز پہلے بھگدڑ سے سات سو سترہ حجاج شہید ہوگئے تھے۔

درایں اثناء سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن نایف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام منیٰ میں پیش آنے والے الم ناک حادثے کے ذمے دار نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''سعودی حکام نے اپنی بساط اور صلاحیت کے مطابق کام کیا ہے اور جو چیزیں انسانی کنٹرول سے باہر ہیں،ان کا آپ کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے''۔

منیٰ میں بھگدڑ کے واقعے میں مراکش اور ایران کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔مراکش کے ستاسی اور ایران کے ایک سو چھتیس حاجی شہید ہوئے ہیں۔ایران کے محکمہ حج کا کہنا ہے کہ بھگدڑ سے ساٹھ ایرانی زخمی ہوئے ہیں۔ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تین سو سے زیادہ ایرانی ابھی تک لاپتا ہیں اور ان میں لبنان میں ایران کے سابق سفیر غضنفر رکن آبادی بھی شامل ہیں۔ اس لیے جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مختلف ممالک کے میڈیا ذرائع اور خارجہ امور کی وزارتوں نے اپنے اپنے شہید حاجیوں کی تعداد جاری کی ہے۔اس کے مطابق مصر کے آٹھ ،الجزائر کے چار،صومالیہ کے آٹھ ،ایران کے ایک سو چھتیس ،پاکستان کے نو،مراکش کے ستاسی ،بھارت کے چودہ ،انڈونیشیا اور کینیا کے تین،تین ،نیدر لینڈز کا ایک ،سینی گال کے پانچ ،برونڈی چار ،چاڈ گیارہ ،نیجر انیس ،صومالیہ آٹھ ،ترکی چار اور تنزانیہ کے پانچ حاجی شہید ہوئے ہیں۔

پاکستانی شہداء میں سابق وزیر مخدوم سید اسد مرتضیٰ گیلانی بھی شامل ہیں۔وہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کے بھانجے تھے۔پاکستانی حکام کے مطابق حادثے میں سترہ پاکستانی زخمی ہوئے ہیں۔البتہ بعض غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق دو سو سے زیادہ پاکستانی ابھی تک لاپتا ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں