.

سپین اورمراکش میں داعش کے 10 بھرتی کنندگان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپین اور مراکش نے اتوار کو مشترکہ اور مربوط کارروائیوں کے دوران شام اور عراق میں برسرپیکار سخت گیر گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے الزام میں دس افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی ہے۔

ہسپانوی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''ان مشتبہ افراد کو سپین کے شہروں تولیدو ،بادالونا ،ساحلی قصبے ژراکو اور ولینشیا کے علاقے اور مراکش کے شہر کیسابلانا سے گرفتار کیا گیا ہے''؛۔

''ان تمام گرفتار افراد کا تعلق داعش کے لیے غیر ملکی جنگجو بھرتی کرنے والے ایک نیٹ ورک سے تھا۔یہ نیٹ ورک غیرملکی جنگجوؤں کو بہلاتا پھسلاتا اور ان کی نظریہ سازی کرکے داعش میں شمولیت کے لیے بھیجتا تھا''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

سپین اور مراکش کے علاوہ یورپ اور شمالی افریقا کے دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو داعش میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ داعش کے یہ جنگجو اپنے اپنے آبائی ممالک کو لوٹنے کی صورت میں وہاں دہشت گردی کے حملے کرسکتے ہیں۔

ہسپانوی وزارت داخلہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ستمبر کے اختتام تک ملک میں اور بیرون ملک اکہتر مشتبہ اسلامی جنگجوو٘ں کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ 2014ء میں چھیالیس مشتبہ افراد کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

مراکشی اور ہسپانوی حکام نے حالیہ مہینوں کے دوران شمالی افریقا میں سپین کے علاقوں میلیلا ،سیوٹا اور ان کے نواح میں واقع مراکشی شہروں میں داعش کے بھرتی کنندگان کے نیٹ ورک سے وابستہ مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مشترکہ کارروائیاں کی تھیں۔دونوں وزارتوں کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک شام اور عراق میں لڑائی کے لیے جنگجو بھرتی کیا کرتا تھا اور وہ مراکش اور سپین میں بھی داعش کی طرز کی کارروائیاں کرنا چاہتا تھا۔

واضح رہے کہ مراکش سے بڑی تعداد میں نوجوان لڑائی میں حصہ لینے کے لیے شام اور عراق میں گئے ہیں اور اس وقت وہ داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔ مراکشی وزیرداخلہ محمد حسد نے جولائی میں بتایا تھا کہ ایک ہزار تین سو پچاس مراکشی داعش میں شامل ہوچکے ہیں اور ان میں دو سو چھیالیس لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا تھا کہ گذشتہ دو سال کے دوران مشتبہ دہشت گردوں کے تیس ںیٹ ورکس توڑے گئے ہیں اور ان میں بارہ کو گذشتہ چھے ماہ کے دوران ختم کیا گیا ہے۔ ہسپانوی وزیرداخلہ جارج فرنانینڈیز دیاز نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ گذشتہ سال سپین سے ایک سو چھبیس افراد داعش میں شمولیت کے لیے گئے تھے۔ان میں سے پچیس لڑائی میں ہلاک ہوگئے تھے اور اکسٹھ ابھی تک بیرون ملک ہیں۔سپین لوٹنے والے پچیس افراد میں سے پندرہ کو جیل بھیج دیا گیا تھا اور دس کو چھوڑ دیا گیا تھا۔