.

روس کے جنگی بحری جہاز بھی شام میں فضائی مہم میں شامل

بحر کیسپیئن میں موجود جنگی بحری جہازوں سے شام میں کروزمیزائلوں سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحر کیسپیئن میں موجود روس کے جنگی بحری جہازوں نے بدھ کی رات پہلی مرتبہ شام کے وسطی علاقے میں کروز میزائل فائر کیے ہیں۔اس علاقے میں شامی فوج نے باغیوں کے خلاف زمینی کارروائی شروع کررکھی ہے۔روس کی گذشتہ ہفتے شام میں فوجی مہم جوئی کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ باغی گروپوں کے خلاف بیک وقت زمینی اور فضائی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

روسی حکام کے مطابق کروز میزائلوں نے قریباً پندرہ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے اور ایران اور عراق کے اوپر سے اڑنے کے بعد شام کے شمالی صوبوں الرقہ اور حلب اور شمال مغربی صوبے ادلب میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔واضح رہے کہ الرقہ اور حلب میں داعش کے جنگجو موجود ہیں جبکہ ادلب پر النصرۃ محاذ کی قیادت میں باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد جیش الفتح کا قبضہ ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ روس نے داعش کے علاوہ دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انھوں نے روس کی فضائی قوت کی مدد سے شامی فوج کی باغیوں کے خلاف زمینی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

روس 30 ستمبر کو اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی فوجی مدد کو آیا تھا اور اس نے داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ روس نے شام میں ستاون فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں صرف دو میں داعش کے ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا ہے جبکہ باقی تمام حملے دوسرے باغی گروپوں پر کیے گئے ہیں۔

شامی کارکنان اور باغیوں کا بھی یہ کہنا ہے کہ روسی طیارے مغرب کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیائیں اس وقت وسطی صوبے حماہ اور ادلب کے جنوب میں روس کی فضائی مدد سے باغیوں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔

روس کے لڑاکا طیاروں نے شام کے وسطی اور شمال مغربی علاقوں میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔روس کی اس فضائی مدد کے بعد ہی شامی فوج باغیوں کے خلاف ایک بڑی زمینی کارروائی کے قابل ہوئی ہے جبکہ اس کو حالیہ مہینوں کے دوران ادلب اور دوسرے شمال مغربی علاقوں میں پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

لیکن شامی فوج جن علاقوں میں زمینی کارروائی کررہی ہے،وہاں داعش کے جنگجو موجود نہیں ہیں۔البتہ روسی وزارت دفاع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کو اس کے جنگی بحری جہازوں سے چلائے گئے راکٹوں سے داعش اور النصرہ محاذ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔