.

روس پر شام میں کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے روس پر شام میں جدید کلسٹر ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔تنظیم نے کہا ہے کہ روس کے لڑاکا طیاروں نے ان بموں کو بشارالاسد کے مخالفین کے ٹھکانوں پر برسایا ہے یاپھر انھیں دمشق حکومت کو مہیا کیا ہے۔

نیویارک میں قائم اس گروپ نے کہا ہے کہ اس کو شام کے دوسرے بڑے شہر حلب کے جنوب مغرب میں واقع ایک گاؤں کفرحلب پر کلسٹر گولہ بارود چلانے کی تصاویر ملی ہیں۔

ہیومن رائٹس کے مشرق وسطیٰ میں ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم حورے نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ پریشان کن معاملہ ہے کہ شام میں کلسٹر بارود کی ایک اور قسم استعمال کی جارہی ہے۔اس کے آنے والے برسوں میں شامیوں کے لیے ضرررساں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں''۔

انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ '' روس یا شام میں سے کسی کوبھی کلسٹر ہتھیار استعمال نہیں کرنے چاہئیں اور ان دونوں ممالک کو بلا کسی تاخیر ان ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے میں شامل ہوجانا چاہیے''۔

تاہم ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ وہ حتمی طور پر یہ نہیں کہ سکتی ہے کہ 4 اکتوبر کو شام اور روس میں سے کس نے کلسٹر بم چلائے تھے۔ان دونوں ممالک نے ایسے ہتھیاروں کے استعمال پر کوئی پابندی بھی عاید نہیں کی ہے۔کلسٹر ہتھیاروں میں درجنوں یا سیکڑوں چھوٹے بم ہوسکتے ہیں۔انھیں راکٹوں کے ساتھ یا پھر فضا سے لڑاکا طیاروں کے ذریعے اہداف پر گرایا جاسکتا ہے۔

درایں اثناء روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران روسی فضائیہ کے طیاروں نے شام کی فضائی حدود میں چونسٹھ پروازیں کی ہیں اور داعش کے ٹھکانوں ،اسلحہ ڈپوؤں اور تربیتی کیمپوں کو تباہ کردیا ہے۔

وزارت دفاع نے مزید کہا ہے کہ روسی طیاروں نے شام کے صوبوں حماہ ،اللاذقیہ ،ادلب اور الرقہ میں تریسٹھ فضائی حملوں میں داعش کے تریپن ٹھکانوں اور جنگی پوزیشنوں کو تباہ کردیا ہے۔

روس کے فوجی حکام نے اپنے امریکی منصبوں سے دوسری ویڈیو کانفرنس کی ہے اور ان سے شام کی فضائی حدود میں جنگی طیاروں کی پروازوں کو محفوظ بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔اس سے قبل دونوں ملکوں کے حکام نے ہفتے کے روز تبادلہ خیال کیا تھا۔

روس 30 ستمبر کو اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی فوجی مدد کو آیا تھا اور داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے۔بحر کیسپیئن میں موجود روس کے جنگی بحری جہازوں نے بھی گذشتہ بدھ کو پہلی مرتبہ شام کے وسطی علاقے میں کروز میزائل فائر کیے تھے۔اس علاقے میں شامی فوج نے باغیوں کے خلاف زمینی کارروائی شروع کررکھی ہے۔واضح رہے کہ الرقہ اور حلب میں داعش کے جنگجو موجود ہیں جبکہ ادلب پر النصرۃ محاذ کی قیادت میں باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد جیش الفتح کا قبضہ ہے۔