روس دہشت گردی مخالف جنگ میں ترکی کے ساتھ قریبی تعاون کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ان کا ملک ترکی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی تعاون کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے جمعرات کو ماسکو میں روسی،ترک شراکت داری کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم ترک حکام کے ساتھ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بہت قریبی تعاون اور کام کرنے کو تیار ہیں''۔

ترکی نے گذشتہ منگل کے روز روس کو شام میں روسی فضائیہ کے حملوں کے سلسلے میں مربوط اقدامات کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تھی۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے 6 اکتوبر کو روس کو خبردار کیا تھا کہ وہ انقرہ کی دوستی سے محروم ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی کی دوستی سے محرومی کا مطلب بہت کچھ کھو دینا ہے۔انھوں نے یہ انتباہ روسی جنگی طیاروں کی جانب سے شام کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد جاری کیا تھا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے گذشتہ ہفتے کے دوران انقرہ میں متعیّن روسی سفیر کو اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر تین مرتبہ طلب کیا تھا اور ان سے سخت احتجاج کیا تھا۔

ترکی نے روس کو خبردار کیا تھا کہ وہ مستقبل میں ایسی کسی خلاف ورزی کے اعادے سے گریز کرے۔اگراس نے دوبارہ ایسا کیا تو وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا خود ذمے دار ہوگا۔

وزارت خارجہ نے بدھ کو بھی انقرہ میں تعینات امریکا اور روس کے سفیروں کو طلب کیا تھا اور انھیں شام میں کرد جنگجوؤں کو داعش کے خلاف لڑائی کے لیے اسلحہ مہیا کرنے پر انتباہ کیا تھااور انھیں ترکی کے کرد جماعت پی وائی ڈی (متحدہ جمہوری پارٹی) کے بارے میں نقطہ نظر سے آگاہ کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ انھیں ضروری انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے''۔

روس کے لڑاکا طیارے 30 ستمبر سے شام میں مبینہ طور پر داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ ترکی اور امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک اس فضائی مہم کی مخالفت کررہے ہیں۔ان ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے اپنے فضائی حملوں میں داعش کو ہدف بنانے کے بجائے شامی حزب اختلاف سےوابستہ باغی گروپوں کے ٹھکانوں اور عام شہریوں پر بمباری کررہے ہیں۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ شام میں روس کے فضائی حملوں سے داعش مخالف جنگ کمزور پڑرہی ہے۔انھوں نے روسی طیاروں کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر خبردار کیا ہے کہ سرحدی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں